رنگین بنگالی گلاب سے جلد کے سرطان کا علاج ممکن

بنگالی گلاب کو ماضی میں کپڑا رنگنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عصرحاضر میں جہاں کینسر جیسے موذی مرض کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہیں اس کے علاج کےنت نئے اورطبی سائنسی طریقے بھی وجود میں آرہے ہیں۔ مگرجِلد کے کینسر کے علاج کے لیے کی جانے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بنگالی ’’سُرخ گلاب‘‘ بھی جِلد کے امراض میں نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان دنوں’سرخ بنگالی گلاب‘ کا چرچا ہے۔ اب تک یہ پھول دھاگہ رنگنے اورامراض کی تشخیص کے لیےاستعمال ہوتا رہا ہے مگراب طبی ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں سرخ گلاب کےانتہائی مہلک مرض کے علاج میں مفید ہونے کا انکشاف کرکے اس کی افادیت اور اہمیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

امریکی ادویہ ساز کمپنی’’پروفیکٹس‘‘ کے امریکی ریاست ٹینیسی کے نوکسفیل شہر میں قائم لیبارٹری میں ’سرخ گلاب‘ کو جلدی کینسر کے علاج کے لیے مختلف مراحل میں تحقیقات کےعمل سے گذارا تو تمام نتائج میں حیران کن نتائج نے سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ دھاگہ رنگنے میں استعمال ہونے والا سرخ پھول جلد کے کینسرجیسے موذی مرض کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بنگالی سُرخ پھول کی ادویہ کی تیاری کے لیے مختلف ملکوں کی حکومتوں سے اجازت لینا ابھی باقی ہے۔ فی الوقت یہ توقع نہیں کہ امریکی ایڈ منسٹریشن برائے خوراک وادویات سنہ 2019ء تک بنگالی سرخ گلاب کو کینسر کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔

بنگال اور دوسرے ملکوں میں بنگالی گلاب کو سنہ 1882ء کے بعد کپڑا اور دھاگہ رنگنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں اسے نومولود بچوں کے جسم میں گلٹی کی تشخیص اور آنکھوں کے امراض کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ سنہ 1998ء میں پہلی بار سائنسدانوں نے انکشاف کیا کہ بنگالی سرخ گلاب لیزر کے ذریعے کینسر کےعلاج میں کارآمد ہو سکتا ہے۔

پروفیٹکس کمپنی کے عہدیدار ایریک ووچر کا کہنا ہے کہ ماہرین کے خیال میں جلد کے کینسر کےپھوڑے میں سرخ بنگالی گلاب کا عرق اس مرض کے علاج کے لیے غیرمعمولی حد تک مفید ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size