سات بڑے ترقیاتی منصوبے ، جو سعودی عرب کو یکسر تبدیل کر دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب میں اس سال بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے اور وژن 2030 اور قومی تبدیلی کے پروگرام 2020 کے تحت جاری منصوبوں پر کام کی رفتار بھی وقت کے ساتھ تیز ہورہی ہے۔

یہ ڈرامائی ترقیاتی منصوبے جن شعبوں میں مکمل کیے جارہے ہیں ،ان میں انفراسٹرکچر ،سیاحت ،صحت ، تعلیم اور مکانات کے شعبے شامل ہیں۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں پچاس جزائر اور چونتیس ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو بین الاقوامی معیار کی ایک سیاحت گاہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ ترقیاتی منصوبہ دو شہروں املج اور الوجہ کے درمیان واقع ہے اور اس کا مقصد دنیا بھر سے دولت مند سیاحوں کو راغب کرنا ہے۔

اس تعمیراتی منصوبے کا سنگ بنیاد 2019ء میں رکھا جائے گا اور اس کا پہلا حصہ 2022 میں مکمل ہوگا۔اس منصوبے کی لاگت کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

اس مقام پر سیاح تاریخی مدائن صالح کے آثار کی بھی سیر کرسکیں گے۔یہ تاریخی آثار بھی اردن میں واقع بطر ا کے آثار کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے ایک نیا شہر الفیصلیہ کے نام سے بسانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔یہ شہر مکہ مکرمہ کے مغرب میں واقع ہوگا ۔ اس میں رہائشی یونٹ ، تفریحی مراکز ، ایک ہوائی اڈے اور ایک بندرگاہ کی تعمیر کی جائے گی۔

اس شہری منصوبے کا کل رقبہ 2450 مربع کلومیٹر ہوگا اور توقع ہے کہ یہ 2050ء میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

سعودی حکومت نے اپریل میں ایک بڑے ثقافتی ،تفریحی اور کھیلوں کے میدانوں پر مشتمل شہر کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ یہ تفریحی شہر دارالحکومت الریاض سے جنوب مغرب میں واقع القدیہ میں تعمیر کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ 334000 مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ہوگا۔اس میں سفاری اور تفریح پارک ہوگا ۔تفریحی شعبے میں کام کرنے والی چھے عالمی کمپنیوں کی مقامی فرنچائزی اپنے سیٹ اپ قائم کریں گی۔

شاہ عبداللہ اکنامک سٹی کو سعودی مملکت کے معیشت کو آزاد بنانے اور آزاد معاشی نظام کے تحت تعمیر کیا جانے والا پہلا شہر قرار دیا جارہا ہے۔

اس منصوبے پر سعودی حکومت کے کنٹرول میں کمپنی عمار اکنامک سٹی اور دبئی کی رئیل اسٹیٹ کی سب سے بڑی کمپنی عمار مشترکہ طور پر کام کررہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت گہرے پانیوں کی ایک بندرگاہ تعمیر کی جائے گی ،55 مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک لاجسٹکس مرکز ہوگا ۔کھیلوں اور تفریح کا ایک مرکز قائم کیا جائے گا۔6500 سے زیادہ رہائشی جگہیں ہوں گی۔

شاہ عبداللہ مالیاتی مرکز کا منصوبہ دبئی کے بین الاقوامی مالیاتی مرکز کے طرز پر وضع کیا گیا ہے۔اس کے تحت بنکوں ، مالیاتی خدمات مہیا کرنے والی کمپنیوں ،مالیاتی آڈیٹرز ، وکلاء ، سعودی مالیاتی مارکیٹ اور کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی کو ایک ہی جگہ پر منتقل کردیا جائے گا۔

معاشی مدینۃ العلم( اکنامک نالج سٹی) سعودی عرب کے چھوٹے شہروں کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے ۔ یہ شہر مدینہ منورہ میں واقع ہوگا ۔اس میں دانشورانہ املاک ، علم پر مبنی صنعتوں ، ادویہ سازی ، مہمان نوازی ، سیاحت اور ملٹی میڈیا پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس کا رہائشی علاقہ 4.8 مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا ۔اس کےمکین تیز رفتار الحرمین ٹرین کے ذریعے مکہ اور جدہ کے درمیان سفر کرسکیں گے۔

یہ شہر 156 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور یہ کثیر المقاصد شہر ہوگا۔ یہ سعودی عرب کے شمال میں واقع شہر حائل میں واقع ہے۔اس شہر میں رہائشی علاقے کے علاوہ ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ، ہوٹل ، کاروباری مراکز اور تفریحی سہولتوں کے مراکز تعمیر کیے جائیں گے۔

شاہ عبداللہ شہرِ اقتصاد
شاہ عبداللہ شہرِ اقتصاد
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size