مصر میں نکاح خواں اپنے ساتھ لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ رکھا کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر میں مستقبل قریب میں رجسٹرڈ نکاح خواہان کی جانب سے "نکاح" کی کارروائیوں کی ڈیجیٹل طریقے سے تصدیق پر کام ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد کم سن لڑکیوں کی شادی کے رجحان پر روک لگانا ہے جو کہ ملک میں پھیلا ہوا ہے۔

مصر میں کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر عمرو طلعت نے اتوار کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی وزارت نے ڈیجیٹل میرج سروس کا آغاز اس لیے کیا ہے تا کہ کم سن بچیوں کی شادیوں میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سروس کے تحت رجسٹرڈ نکاح خواہان اپنے ساتھ لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹس رکھیں گے اور شادی کے دستاویزات کا ریکارڈ ان میں محفوظ کریں گے۔

مصری وزیر نے واضح کیا کہ اس طریقے میں نکاح کے انعقاد سے قبل دولہا اور دلہن کی عمر کی تصدیق کے لیے ان کی معلومات ارسال کی جایا کریں گی۔

اس طرح اس امر کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ نکاح کا انعقاد مقررہ قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ متعدد تنظیموں کی جانب سے آگاہی کی مہمیں چلائے جانے کے باوجود مصر میں کم سن لڑکیوں کی شادی کا رجحان بڑی حد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس رجحان کی اولین وجوہات غربت اور لا علمی ہے۔

مصر میں گزشتہ برس شماریات کے مرکز نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں کم سنی کی شادی کے 1.18 لاکھ کیسز موجود ہیں۔ علاوہ ازیں کم سن لڑکیوں کی شادی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ مصر میں 20 برس سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کی سب سے زیادہ شرح دارالحکومت قاہرہ میں ریکارڈ کی گئی جہاں یہ تناسب 40% تک پہنچ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں