میراث میں مرد اور عورت میں برابری شریعت کے خلاف ہے : مصری مفتی اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے تیونس کی حکومت کی جانب سے میراث کی مساوی تقسیم سے متعلق قانون کی منظوری پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ قانون شریعت اور تمام زمانوں میں علمائے کرام کے اجماع کے سراسر خلاف ہے۔

مصری مفتی اعظم نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ میراث میں ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہونے کا حکم ،،، قرآن کریم کے قطعی نص سے ثابت ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے : "يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ" ... اور فرمایا کہ "وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ".

ڈاکٹر شوقی کے مطابق قطعی دلیل سے ثابت نص میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور میراث میں مرد اور عورت دونوں کے حصوں کا تناسب ایک ثابت شدہ امر ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ میراث میں تقسیم کا تناسب مذکر اور مؤنث کے ساتھ نہیں بلکہ یہ حکم ربانی کے ساتھ وابستہ ہے۔ بعض لوگوں نے میراث میں عورت اور مرد کے درمیان عدم مساوات کو اس بات سے جوڑ دیا کہ اسلام میں عورت کو مرد کے برابر مقام حاصل نہیں ہے۔ یہ سراسر باطل دعوی ہے کیوں کہ اسلام کی نظر میں مرد اور عورت کے برابر حقوق ہیں۔

مصری مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ ہمارے دین حنیف میں میراث کے میں عورت کے حوالے سے تیس صورتیں ہیں جن میں بعض صورتوں میں عورت کو مرد سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ مثلا اگر کوئی عورت فوت ہو جاتی ہے اور ورثاء میں شوہر اور ایک بیٹی ہیں۔ تو ایسی صورت میں شوہر کو ایک چوتھا حصہ ملے گا جب کہ بیٹی کو – جو کہ عورت ہے- نصف حصہ ملے گا۔ اس طرح یہاں عورت کو مرد سے دو گنا حصہ مل گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size