میراث میں مرد اور عورت میں برابری شریعت کے خلاف ہے : مصری مفتی اعظم
مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے تیونس کی حکومت کی جانب سے میراث کی مساوی تقسیم سے متعلق قانون کی منظوری پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ قانون شریعت اور تمام زمانوں میں علمائے کرام کے اجماع کے سراسر خلاف ہے۔
مصری مفتی اعظم نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ میراث میں ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہونے کا حکم ،،، قرآن کریم کے قطعی نص سے ثابت ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے : "يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ" ... اور فرمایا کہ "وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ".
ڈاکٹر شوقی کے مطابق قطعی دلیل سے ثابت نص میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور میراث میں مرد اور عورت دونوں کے حصوں کا تناسب ایک ثابت شدہ امر ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ میراث میں تقسیم کا تناسب مذکر اور مؤنث کے ساتھ نہیں بلکہ یہ حکم ربانی کے ساتھ وابستہ ہے۔ بعض لوگوں نے میراث میں عورت اور مرد کے درمیان عدم مساوات کو اس بات سے جوڑ دیا کہ اسلام میں عورت کو مرد کے برابر مقام حاصل نہیں ہے۔ یہ سراسر باطل دعوی ہے کیوں کہ اسلام کی نظر میں مرد اور عورت کے برابر حقوق ہیں۔
مصری مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ ہمارے دین حنیف میں میراث کے میں عورت کے حوالے سے تیس صورتیں ہیں جن میں بعض صورتوں میں عورت کو مرد سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ مثلا اگر کوئی عورت فوت ہو جاتی ہے اور ورثاء میں شوہر اور ایک بیٹی ہیں۔ تو ایسی صورت میں شوہر کو ایک چوتھا حصہ ملے گا جب کہ بیٹی کو – جو کہ عورت ہے- نصف حصہ ملے گا۔ اس طرح یہاں عورت کو مرد سے دو گنا حصہ مل گیا۔
-
مصر: ہتک آمیز برتاؤ سے دل برداشتہ طالبہ کی خود کشی
مصر کے شہر اسکندریہ میں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک طالبہ ادارے کی عمارت کی ...
بين الاقوامى -
مصر میں نکاح خواں اپنے ساتھ لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ رکھا کریں گے
مصر میں مستقبل قریب میں رجسٹرڈ نکاح خواہان کی جانب سے "نکاح" کی ...
ایڈیٹر کی پسند -
مصر اور سوڈان سرحد پر مشترکہ نگرانی پر متفق
مصر اور سوڈان نے دونوں ملکوں کی سرحد پر اسمگلنگ اور غیرقانونی دراندازی کی روک تھام ...
بين الاقوامى