.

چار مختلف نوعیت کے سِرکوں کے طبی فوائد اور منفی اثرات جانیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اکثر گھروں کے باورچی خانوں میں سرکے کی بوتلیں پائی جاتی ہیں۔ سرکہ عام طور پر قالینوں پر لگے دھبوں اور نشانوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم سرکے کا استعمال یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے سلاد اور اچاروں پر بھی چھڑکا جاتا ہے۔

انگریزی ویب سائٹ Boldsky کی ایک رپورٹ کے مطابق سفید سرکہ اور سیب کے سرکے کے علاوہ بھی کئی اقسام کے سرکے مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

ذیل میں مارکیٹ میں دستیاب بعض اہم اقسام کے سرکوں کا ان کے استعمال اور فوائد کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ استعمال میں زیادتی کی صورت میں ان کے سائیڈ ایفیکٹس بھی سامنے آ سکتے ہیں :

1 ۔ سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ سیب کے رس سے تیار کیا جاتا ہے۔ تخمیر کے متعدد مرحلوں سے گزر کر یہ سرکہ اپنی حتمی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ہلکے زرد رنگ کا یہ سرکہ سلاد، اچار اور چٹنیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ سیب کا سرکہ صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ ان میں خون میں شوگر کی سطح کو منظم رکھنا، ہاضمے کے نظام کی بہتری، وزن میں کمی، معدے میں تیزابیت کو روکنا، خون میں کولیسٹرول کی شرح کم کرنا، حلق کی سوزش کا علاج اور جلد کی صحت کی بہتری شامل ہے۔

سیب کے سرکے کے استعمال میں زیادتی کی صورت میں کئی سائیڈ ایفیکٹس سامنے آ سکتے ہیں۔ ان میں معدے میں gastroparesis (معدے کے خالی نہ ہونے کا مرض) کی علامات میں اضافہ، بھوک ک اشتہا میں کمی اور پیٹ بھر جانے کے احساس میں زیادتی، دانتوں کا گل جانا، حلق میں جلن شامل ہے۔

2 ۔ چاولوں کا سرکہ

یہ سرکوں کی ایک پرانی صورت ہے اور اسے صحت بخش استعمال میں کوئی بڑی عوام مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ چاولوں کا سرکہ سفید یا سرخ یا سیاہ رنگ میں دستیاب ہوتا ہے۔ اس میں ایسیٹیک ایسڈ اور امائنو ایسڈ پایا جاتا ہے۔ چاول کے سرکے کو سبزیوں کے اچار تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چاول کا سرخ سرکہ چٹنیوں کی تیاری میں کام آتا ہے۔ اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے کی صورت میں کئی طرح سے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ہاضمے کا نظام بہتر ہوتا ہے، تھکن دور ہوتی ہے، قوت مدافعت میں بہتری آتی ہے اور دل اور جگر صحت مند ہو جاتے ہیں۔ البتہ چاول کا سرکہ باقاعدگی سے استعمال کرتے رہنے سے دانتوں کے برباد ہونے کا قوی امکان ہوتا ہے۔

3 ۔ بلسمی سرکہ

بلسمی سرکہ عموما گہرے کتھئی رنگ کا ہوتا ہے اور یہ انگور سے تیار کیا جاتا ہے۔ بلسمی سرکہ اینٹی آکسائیڈز سے بھرپور ہونے کے سبب مشہور ہے۔ یہ سیچوریٹڈ فیٹس کی کم مقدار رکھتا ہے۔ اس کے کئی اہم فوائد ہوتے ہیں جن میں سرطان سے متاثر ہونے میں کمی، دل کا دورہ پڑنے کے امکانات میں کمی، درد کو دور کرنا اور بھوک کو تر و تازہ کرنا شامل ہے۔ البتہ بلسمی سرکہ حلق میں سوزش یا معدے کی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔

4 ۔ گنّے کا سرکہ

یہ سرکہ گنّے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ فلپائن میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مزہ چاول کے سرکے جیسا ہوتا ہے۔ تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے نام کے برعکس اس کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا ہے۔ گنے کے سرکے کے متعدد فوائد ہیں۔ ان میں جلد کا اچھا ہو جانا، Marrow granulomatosis کے انفیکشن کے علاج میں مددگار ثابت ہونا اور خون میں شوگر کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔

دیگر سرکوں کی طرح گنے کے سرکے کے استعمال میں زیادتی بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ گنے میں موجود پولیکوسینول معدے میں بے چینی، سر چکرانے، آدھے سر کے درد، غیر صحت مند انداز میں وزن میں کمی اور ممکنہ طور پر ہیموفیلیا کا سبب بن سکتا ہے۔