.

مینا کے خطے میں نصف بچّوں کو آن لائن جنسی استحصال اور ناروا سلوک کا سامنا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی رپورٹ میں بچّوں کے خلاف آن لائن جنسی استحصال اور ہراسیت میں اضافے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق مشرق اوسط اور شمالی افریقا کے خطے (مینا) میں 18 سال سے کم عمربچّوں میں سے قریباً نصف کو ورچوئل ہراسیت کاسامنا کرناپڑتا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال اور ہراسیت کے خلاف عالمی ردعمل کوآن لائن تبدیل کرنے کے لیے کام کرنے والی عالمی تحریک ’وی پروٹیکٹ گلوبل الائنس‘ نے منگل کو اپنی 2021 کے عالمی خطرے کا جائزہ نامی رپورٹ شائع کی ہے۔اس عالمی اتحاد میں 200 سے زیادہ حکومتیں، نجی شعبے کی کمپنیاں اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شامل ہیں۔

یہ رپورٹ مئی سے جون 2021 کے درمیان 54 ممالک میں 5000 سے زیادہ بچّوں اورنوعمروں کے عالمی سروے پر مبنی ہے۔ان سے سروے میں متعدد عوامل سے متعلق پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ان بچوں نے بتایا کہ انھیں آن لائن جنسی ہراسیت کا سامنا کرنا، کسی بالغ یا کسی ایسے شخص سے جنسی طور پر واضح مواد بھیجا گیا جسے انھیں 18 سال کی عمر سے پہلے جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔

ان سے کہا گیا کہ وہ کسی بالغ / یا کسی ایسے شخص کے ساتھ اپنے جنسی طورپرواضح آن لائن تعلقات کا حصہ بنیں جسے وہ پہلے سے نہیں جانتے تھے، ان کی جنسی طورپر واضح تصاویربغیررضامندی کے شیئر کی گئی تھیں (ایک ساتھی کی طرف سے، ایک بالغ، یا کسی ایسے شخص جسے وہ پہلے نہیں جانتے تھے) یا کسی ایسے شخص سے جنسی طور پرواضح آن لائن کچھ کہا گیا جس سے وہ بے خبرتھے (کسی ہم عمر، بالغ یا کسی ایسے شخص کی طرف سے جسے وہ پہلے سے نہیں جانتے تھے)۔

اس جائزے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اور ہراسیت کے واقعات اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ بچوں کے لیے محفوظ آن لائن ماحول بنانے کے لیے عالمی ردعمل میں جوہری تبدیلی کی فوری ضرورت ہے۔

وَبا میں بچوں کے جنسی استحصال میں اضافہ

کووڈ-19 کی وَبا کے دوران میں بچوں اور نوعمروں کے جنسی استحصال میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان کے آن لائن گزرنے والے وقت کے دورانیے میں اضافہ ہوا ہے اور حالات کا ایک ’’کامل طوفان‘‘برپا ہوگیا جس سے دنیا بھرمیں بچّوں کے جنسی استحصال اور ان سے ناروا سلوک کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو سال میں آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اورنازیبا سلوک کی رپورٹنگ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے آن لائن گرومنگ کے واقعات میں اضافے، آن لائن دستیاب بچّوں کے جنسی استحصال کے مواد کا حجم، جنسی ہراسیت کے مواد کے اشتراک اور تقسیم سے بھی بچوں کے استحصال یاہراسیت کے واقعات میں اضافے کی نشان دہی ہوتی ہے۔

اس جائزے کے مطابق آن لائن بچّوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافے کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ صرف امریکا کا قومی مرکز برائے لاپتا اور استحصال زدہ بچے(نیشنل سینٹر فارمسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن ،این سی ایم ای سی) ہر روزبچّوں کے جنسی استحصال کی 60 ہزارسے زیادہ رپورٹوں پرآن لائن کارروائی کررہا ہے۔

44 فی صدعرب بچّوں کو کم سنی میں جنسی ہراسیت کا سامنا

عرب دنیا میں مشرق اوسط اورشمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے ہردو میں سے قریباً ایک جواب دہندہ (44 فی صد) نے خود سے کم سنی میں جنسی ہراسیت کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے ’وی پروٹیکٹ گلوبل الائنس‘ کے انٹرنیشنل اکانومسٹ امپیکٹ کو بتایا کہ انھیں بچپن میں آن لائن جنسی ہراسیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سروے میں عالمی سطح پر57 فی صد خواتین اور 48 فی صد مرد جواب دہندگان نے جنسی ہراسیت کے آن لائن کسی ایک واقعے کی ضروراطلاع دی ہے جبکہ 57 فی صد معذورجواب دہندگان کو آن لائن جنسی طورپر ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ 48 فی صد غیرمعذور جواب دہندگان نے بھی خود سے غلط سلوک کی اطلاع دی ہے۔

ہر تین میں سے ایک سے زیادہ جواب دہندگان (34 فی صد) سے بچپن میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ جنسی طور پر واضح طور پر کچھ کریں۔

’سوشل میڈیا بچّوں کے لیے دودھاری تلوار‘

اس رپورٹ پر مباحثے کے دوران میں ’وی پروٹیکٹ گلوبل الائنس‘ کےایگزیکٹو ڈائریکٹرآئن ڈرینن نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو’اکثر بچّوں کے لیے دو دھاری تلوار قراردیا‘۔ان کے بہ قول سوشل میڈیا ایک جانب تو بچّوں کو سیکھنے کے اہم مواقع فراہم کرتاہےلیکن دوسری جانب اس کوبچّوں کے جنسی استحصال کے لیے بھی بآسانی استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ آن لائن بچوں سے بدسلوکی کی لائیواسٹریمنگ یا اس کی ویڈیوزدوسروں کے ساتھ شیئر کرنے تک کئی شکلیں اختیار کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں ایک کیس اسٹڈی میں 10 سالہ لڑکی اولیویا کی حقیقی زندگی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔اس کو آن لائن جنسی ہراسیت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ابتدائی طور پرایک گیمنگ ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا گیا تھا، تاکہ اس کی زیادہ نجی آن لائن چیٹ روم میں آنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

اس واقعے میں ملوّث مرکزی مجرم نے اولیویا کی تفصیل دیگر استحصال کنندگان کے ساتھ شیئرکیں۔انھوں نے اس سے براہ راست رابطہ کرنا شروع کیا اور اپنے جنسی رویے کو معمول پرلانے کے لیے نازیبا مخرب اخلاق ویڈیوز کے لنکس بھیجے۔کئی مختلف ممالک کے مرد ڈارک ویب کے ذریعے بھی اس سے بات چیت کررہے تھے۔

اولیویا نے اپنے والد کو اس صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے موبائل فون کو کھلا چھوڑدیا۔ پھراس کے والد نے نازیبا تصاویر ملاحظہ کیں۔اسے مختلف مردوں کی طرف سے سیکڑوں ای میلز موصول ہورہی تھیں اور وہ اب اس معاملے کومزید راز میں رکھنے سے قاصرتھی۔

اولیویا اس صورت حال سے خوفزدہ تھی اور وہ چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ نازیبا سلوک کا یہ سلسلہ بند ہو۔اس جنسی ہراسیت کے اس کی ذہنی صحت اور احساسِ خودی پر مضراثرات مرتب ہورہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تنہا کسی ایک بچی کی کہانی نہیں ہے۔گذشتہ نو ماہ کے دوران میں ہماری تحقیق سے آن لائن جنسی استحصال کے مسلسل خطرات کا پتا چلا ہے اور ایسے واقعات میں غیرمعمولی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔

ڈرینن کے مطابق،’’گذشتہ دو سال میں آن لائن جنسی استحصال کے رپورٹ ہونے والے واقعات کی شرح اب تک سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،نازیبا تصاویرشیئر کرنے، گرومنگ اور لائیواسٹریمنگ میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’کووڈ-19 کے دوران میں جنسی ہراسیت کے مقاصد کے لیے خود ساختہ مواد میں اضافہ ہوا ہے اور اس کو متعلقہ فرد کی رضامندی کے بغیرشیئر کیا جاتا ہے۔بچوں سے نازیبا سلوک اور جنسی ہراسیت کے واقعات کی شرح اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اعداد وشمارعالمی سطح پر نمائندہ نہیں اور یہ امریکااور برطانیہ کی ان کاؤنٹیوں کی زیادہ نمایندگی کرتے ہیں جہاں سراغ رسانی اور رپورٹنگ زیادہ ہے۔‘‘

تشویش کا خاص رجحان ’کیپنگ‘

رپورٹ کے مطابق سب سے باعثِ تشویش ایک خاص رجحان ’’کیپنگ‘‘تھا۔اس میں بچوں کو کیمرے کے سامنے جنسی عمل کرنے کے لیے تیارکرنا اور مجبور کرنا شامل ہے۔ پولیس کے مطابق بچّوں کے جنسی استحصال کے پھیلاؤ کو ہوا دینے والا یہ ایک پریشان کن رجحان ہے۔کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں خود ساختہ جنسی مواد زیادہ عام ہوگیا ہے جس سے پولیس اور پالیسی سازوں کو خاص چیلنجزدرپیش ہیں۔

سبسکرائبرآن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ایسے مواد سے رقوم بنانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور اس عمل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت داخلہ میں بین الاقوامی امور بیورو کی ڈائریکٹرجنرل لیفٹیننٹ کرنل دانا حمید نے کہا کہ حکومتوں کو بچوں کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں چھوٹے پیمانے پراس تجویز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، حکومتوں، پالیسی سازوں، انصاف، صنعت، میڈیا، سماجی تعلیم اور مذہبی شعبے میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

داناحمید نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے اب بھی جہالت موجود ہے اور یہ سمجھنے کی کمی ہے کہ ان جرائم میں اگرچہ متاثرہ فرد اور مجرم کے درمیان کوئی جسمانی رابطہ نہیں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس سے بہت سنگین نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے تجربے سے ہمیں متحدہ عرب امارات میں بہت کچھ حاصل ہوا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’یہ خطہ اس پیچیدہ عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید کچھ کر سکتا ہے۔ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس ضمن میں زیادہ کڑے ضوابط کے اطلاق کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ آن لائن حفاظتی آلات میں زیادہ شفافیت لائی جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جائے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق بچّوں کے جنسی استحصال اور نازیباسلوک کا دائرہ کاربڑھ رہا ہے جبکہ اس مظہریت سے نمٹنے کے لیےعالمی صلاحیت محدود ہورہی ہے۔

آن لائن جنسی ہراسیت اور استحصال کی روک تھام کے لیے اگرچہ قانون کے نفاذ اورعدالتی ردِّعمل ضروری ہے لیکن رپورٹ کے پس پردہ مصنفین نے ’’بچوں سے نارواسلوک کی فعال روک تھام کے لیے حقیقی معنوں میں ایک پائیدارحکمتِ عملی ‘‘پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’آن لائن ایک ایسے محفوظ ماحول کی تخلیق یقینی بنانے کی ضرورت ہے جہاں بچے پھل پھول سکیں۔‘‘

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس پیچیدہ عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے آن لائن بچّوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔بچّوں کے جنسی استحصال اور نارواسلوک کے خلاف عالمی ایجنڈے کو آگے بڑھانے، آن لائن سیفٹی ٹیکنالوجی کوزیادہ قابل رسائی بنانے اور ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں کی جانب سے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔