سعودی آرٹسٹ لولوہ حمودہ نے خلیجی کانفرنس کی’گول میز‘ کیسے ڈیزائن کی؟

"جدہ سمٹ" ٹیبل کی ڈیزائنر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس کام کے راز بتا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے شہر جدہ میں سولہ جولائی کو منعقد ہونے والی امن اور ترقی کانفرنس کے لیے جو ’گول میز‘ سجائی گئی تھی اسے ڈیزائن کرنے میں سعودی خاتون آرٹسٹ لولوہ الحمود کا کلیدی کردار تھا۔

سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں خلیجی قیادت کے علاوہ مصر، عراق، اردن کے سربراہان اور امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی شرکت کی۔

لولوة الحمود
لولوة الحمود

دُنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہنے والی ’گول میز‘ کی ڈیزائنر لولوہ الحمود نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے اپنے آرٹ کے کئی ہم راز بھی بتا دیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نوعیت کی کانفرنس کی تیاری کے لیے میز کی سجاوٹ ایک مشکل کام تھا اور مجھے اس کام کو انجام دیتے ہوئے ایک ان جانا خوف بھی لاحق تھا کہ کہیں اس کی تیاری میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مُجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے تیار کردہ ٹیبل ڈیزائن کو پسند کیا گیا۔ اس کام کی کامیابی پر مُجھے اپنے آپ پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سربراہ اجلاس کے منتظمین نے ڈیزائن اور اس کی ضروریات سے متعلق ہر چیز کے بارے میں رہ نمائی کے ساتھ اس کی حمایت کی۔

یہ پہلا موقع ہے جب الحمود نے ایک میز ڈیزائن کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اسے ایک "ناقابل بیان احساس" دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میز کا ڈیزائن سب سے بڑی بین الاقوامی فرنیچر کمپنیوں کو بھیجا جا سکتا تھا۔"

ڈیزائن کے فلسفے کے بارے میں الحمود نے کہا کہ یہ "اوورلیپ اور نمو" رکھتا ہے اور "کھجور کے درختوں کے تنوں سے ملتا جلتا ہے جب کہ میز کے اندر مثلث عنصر لامتناہی نمو کے خیال" کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سعودی ورثے سے متاثر ایک ڈیزائن ہے، جس کا جدید زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔"

الحمود سنٹرل سینٹ مارٹن یونیورسٹی آف آرٹس سے اسلامی آرٹ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہیں جنہوں نے عربی خطاطی اور جیومیٹرک ڈیزائن کو اپنی تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی آرٹسٹ کو موقع اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ اس کے پاس تخلیقی صلاحیتوں اور عمل درآمد کے امکانات کی کمی نہیں ہے، خاص طور پر چونکہ ہر کوئی اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے۔"

انہوں نے آرٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں اس کام کو ایک بہت بڑی ذمہ داری اور ایک ایسا شعبہ سمجھتی ہوں جو انسان کی سچائی کا اظہار کرتی ہے اور ثقافت اور تہذیب کے بارے میں ایک تعلیمی دریچہ ہے۔ اسی لیے یہ زندگی کا پیغام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں