اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جس کا سعودی عرب اور پاکستان نے خیرمقدم کیا ہے جبکہ اس معاملے پر ہونے والی ووٹنگ میں امریکہ نے حصہ نہیں لیا۔
سعودی عرب نے سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد منظور کیے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مستقل اور پائیدار جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے پیر کے روز پہلی مرتبہ غزہ پٹی میں رمضان المبارک کے حوالے سے فوری جنگ بندی کی قرار داد کی منظوری دی ہے۔
اس حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں پہلی بار قرارداد کے منظور کیے جانے کے عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ فوری جنگ بندی کی قرار داد سے تمام قیدیوں کی رہائی اورانسانی بنیادوں پر غزہ پٹی اور اس کے اطراف میں متاثرین کو وسیع بنیادوں پر امداد کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
سعودی عرب کی جانب سے اپنے غزہ پٹی میں شہریوں کی مشکلات اور اسرائیلی حملوں کو روکنے کے اپنے مطالبے کی تجدید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی برادری ان حملوں کو مستقل بنیادوں پر روکنے اور فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داری تسلیم کرے۔
سعودی عرب کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی امیدوں کے مطابق انکی مشکلات ختم اور ان کے حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ادھر پاکستان نے بھی پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد کو منظور کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رمضان کے دوران غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سکیورٹی کونسل کی جانب سے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی آزادانہ رسائی، امداد کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانے اور غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے مطالبے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔‘