اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک ایسی صورتحال تک پہنچ جائے گا جس میں حماس غزہ کی پٹی پر مزید کنٹرول نہیں رکھے گی۔ انہوں نے کہا حماس نے اسرائیلی حملوں کے بعد ایک فوجی تنظیم کے طور پر پٹی میں کام کرنا بند کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ حماس پر مسلسل دباؤ نے اسرائیلی افواج کو غزہ کی پٹی میں کام کرنے کی لچک اور آزادی کی اجازت دی ہے۔ اسرائیل حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی واپسی کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے کے لیے ایک مناسب موڑ پر پہنچ گیا ہے۔
جنوبی غزہ سے انخلا
اتوار کو اسرائیلی فوج نے خان یونس سمیت جنوبی غزہ کی پٹی سے اپنی تمام افواج کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔ فوج نے کہا کہ ایک "بڑی فورس" محصور غزہ کی پٹی کے باقی حصوں میں کام جاری رکھے گی۔
"ٹائمز آف اسرائیل" اخبار کے مطابق جنوب سے انخلاء کے باوجود فوج کی نہال بریگیڈ غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے مرکزی ’’ نٹساریک روڈ‘‘ پر کنٹرول برقرار رکھے گی۔
واضح رہے 7 اکتوبر سے شروع اس جنگ میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں 33175 فلسطینیوں کو شہید اور 76 ہزار کو زخمی کردیا ہے۔