بیروت پر حملے سے قبل امریکہ کو مطلع کر دیا تھا:اسرائیلی حکام کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافات کے علاقے الغبیری پر فضائی حملے کے بعد اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر واشنگٹن کو مطلع کر دیا تھا۔

’ایکسیس‘ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے بیروت پر حملہ کرنے سے کچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو آگاہ کر دیا تھا۔

ادھر العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب نے امریکی فریق کو حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی، تاہم اس کے لیے امریکی منظوری نہیں لی گئی۔

ایرانی دھمکی

دوسری جانب خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی کمانڈر محمد جعفر اسدی نے زور دیا ہےکہ لبنان میں اسرائیلیوں کے جرائم کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ عسکری قیادت نے کہا ہے کہ وہ جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب دیں گے۔

ادھر ایران کے چیف نیگوشی ایٹر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جنوبی مضافات پر اسرائیل کا حملہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا خواہاں نہیں یا پھر اس قابل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’اگر آپ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکتے تو پھر راستے کو جاری رکھنے کے بارے میں بات کرنا ناممکن ہے، تاہم انہوں نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا‘۔

اسرائیلی فوج نے آج اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک مشترکہ بیان میں زور دیا کہ فوج نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں کی طرف فائرنگ کے جواب میں مضافات میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانے والی کوئی بھی کارروائی فیصلہ کن جواب کے بغیر نہیں رہے گی۔

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس حملے میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر علی الحاج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تین ڈرونز کا اجرا

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے آج اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے مبینہ طور پر الگ الگ آپریشنز میں تین ڈرون چھوڑے گئے جو اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جن میں سے دو شمالی اسرائیل میں گر کر تباہ ہوئے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج پر کئی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس نے تاحال شمالی اسرائیل پر کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ آج ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ دستخط کیا جائے گا، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل ہونا چاہیے۔

ایرانی فریق نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں