ووہان لیب سے کووڈ-19 کیسے لیک ہوا؟ وائٹ ہاؤس کا انکشاف

وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں پیدا ہوا: وائٹ ہاؤس کے شواہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وائٹ ہاؤس نے "کرونا وائرس لیک" کے بارے میں ایک ویب سائٹ لانچ کی جس میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں پیدا ہوا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں ایک نیا ویب پیج لانچ کیا جو اس نظریئے کی حمایت کرتا ہے کہ کووڈ-19 وائرس لیبارٹری میں پیدا ہوا۔

معلومات لیک کرنے والی مشہور ویب سائٹ وکی لیکس کی طرح اس پیج کا نام "لیب لیکس" رکھا گیا ہے۔ صفحہ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ بڑے حروف میں عنوان دیا گیا ہے جس میں امریکی صدر سخت چہرہ لیے دونوں الفاظ کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔

اس پیج پر میڈیا، سیاست دانوں، صحت کے حکام اور امریکی امیونولوجسٹ انتھونی فوکی پر یہ نظریہ پھیلانے کا الزام لگایا کہ "وائرس قدرتی طور پر ابھرا۔" پیج پر یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ "وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں پیدا ہوا۔"

وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ نے پانچ نکات پر روشنی ڈالی:

1. وائرس ایک حیاتیاتی خصوصیت رکھتا ہے جو فطرت میں نہیں پائی جاتی۔

2. ڈیٹا بتاتا ہے کہ انسانوں میں کووڈ-19 کے تمام کیسز ایک ہی انسان کو بیماری لگنے کا نتیجہ ہیں۔ یہ سابقہ وبائی امراض سے متصادم ہے جس میں بڑے پیمانے پر منتقلی دیکھنے میں آئی۔

3. ووہان چین کی اہم ترین سارس ریسرچ لیب کا گھر ہے جس میں بائیو سیفٹی کی ناکافی سطحوں کے باعث گین آف فنکشن (جین ای) ریسرچ (جین میں تبدیلی اور آرگنزم کے متحرک ہونے) کی ایک طویل تاریخ ہے۔

4. کووڈ-19 کے دریافت ہونے سے مہینوں پہلے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) کے محققین میں 2019 کے موسمِ خزاں میں کووڈ جیسی علامات پیدا ہوئیں۔

5. تقریباً تمام سائنسی معیارات کے مطابق اگر قدرتی ماخذ کے ثبوت موجود ہوتے تو یہ اب تک سامنے آ چکے ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے پانچ سال بعد بھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا یا چین کی کسی لیبارٹری سے اس کی ابتدا ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں