سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت ماحولیات، پانی اور زراعت کے شعبوں میں پائے داری کے اہداف کے حصول کے لیے جدت کو اپنی حکمت عملی کا مرکز بنا لیا ہے۔ اس سلسلے میں مملکت کی وزارت برائے ماحولیات، پانی و زراعت نے 300 سے زائد جدید ٹیکنالوجیز کو اختیار کیا ہے تاکہ حالیہ درپیش چیلنجوں سے نمٹا جا سکے اور غذائی و آبی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارت نے تحقیق و اختراع کی ایجنسی کی نمائندگی میں، تین رپورٹیں جاری کی ہیں جن میں "ماحولیاتی جدت"، "زرعی جدت" اور "آبی جدت" شامل ہیں۔ ان رپورٹوں میں ٹیکنالوجی کی ترجیحات اور ان پر عمل درآمد کے طریقے بیان کیے گئے ہیں، جو کہ سرکاری و نجی شعبوں کے تعاون سے طے کیے گئے ہیں۔
ماحولیاتی شعبے میں اس حکمت عملی کا زور صحرا زدگی کے انسداد، ہوا کے معیار کی بہتری اور فضلہ کے انتظام پر ہے۔ زرعی میدان میں، اس میں فعال آب پاشی، محفوظ شدہ کاشت کاری اور ڈرون جیسے حل شامل ہیں، جن کی مدد سے زیرِ زمین پانی کے استعمال میں کمی اور غذائی خود کفالت میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔ آبی شعبے میں وزارت نے نمکین پانی کو قابلِ استعمال بنانے (ڈی سیلینیشن) کی کارکردگی کو بہتر بنانے، پانی کے دوبارہ استعمال اور ترسیلی نظام میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے کو ہدف بنایا ہے۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام کوششیں قومی اختراعی دائرہ کار سے ہم آہنگ ہیں جس کی قیادت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں ... اور یہ ایک ایسے پائے دار مستقبل کا نقشہ راہ ہے جو معیشت کی تقویت اور معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے۔
چیلنجوں سے مواقع تک : جدت کے ذریعے تبدیلی
ماحول، زراعت اور پانی کے شعبے یکساں چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں، جیسے آبی وسائل کی کمی، سخت موسمی حالات اور ماحولیاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت وغیرہ۔ تاہم یہی مشکلات جدید تکنیکی حل کو اپنانے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جو ان رکاوٹوں کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کر سکتی ہیں۔
ماحولیاتی میدان میں اولین ترجیحات ماحولیاتی نظاموں کا تحفظ، صحرا زدگی کا تدارک اور فضلہ و ہوا کے معیار کے بہتر نظم و نسق ہیں۔ زرعی میدان میں فصلوں کی پیداوار میں بہتری اور پانی کے استعمال میں کفایت شعاری ممکن بنائی جا رہی ہے، جبکہ آبی شعبے میں وسائل کا نظم، پانی کو قابلِ استعمال بنانا اور اس کا دوبارہ استعمال سب سے بڑے چیلنجوں میں شامل ہیں۔
اسی تناظر میں، وزارت اختراعی انفرا اسٹرکچر کو مضبوط بنانے، سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی، اور دستیاب ٹیکنالوجیز کی افادیت، کارکردگی اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے مسلسل تحقیق و تجزیہ کر رہی ہے۔
پانی: ایک نایاب وسیلے کے تحفظ کے لیے اختراعی حل
سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت کی زیادہ تر ضروریات زیرِ زمین پانی اور سمندری پانی کی صفائی پر منحصر ہیں۔ وزارت کی حکمت عملی کا مقصد پانی کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور آبی و ماحولیاتی پائے داری کو یقینی بنانا ہے۔
تحقیق و اختراع کی ایجنسی کی رپورٹ "مملکتِ سعودی عرب میں آبی جدت : ٹیکنالوجی اپنانے کا نقشہ راہ" میں 100 ٹیکنالوجیز کو 20 زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے 10 ترجیحی گروپس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان میں ریورس آسموسس، رساؤ کی مرمت، پانی کے دوبارہ استعمال، اور فعال آب پاشی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزارت کا ہدف یہ ہے کہ ترسیلی نظام میں پانی کا ضیاع کم کر کے اسے 15 فی صد تک لایا جائے، تقسیم کے نظام کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے، ڈی سیلینیشن کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کی لاگت میں کمی لائی جائے۔ یہ تمام اقدامات آبی تحفظ کو مضبوط بنانے اور زیرِ زمین پانی پر انحصار کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔