العربیہ خصوصی رپورٹ

کیا فلسطین اور اسرائیل تنازعے کا دو ریاستی حل عملا ممکن ہے؟

سعودی عرب، فرانس اور دیگر ممالک کی مشترکہ کوشش، ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور مالٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں گے، جس کے بعد ایک بار پھر اسرائیل-فلسطین تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولے پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دو ریاستی حل کے حوالے سے نیویارک میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی دستاویز کی توثیق کی، اور دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فارمولے کی حمایت کریں۔

دستاویز میں غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے پائیدار اور منصفانہ حل اور پورے خطے کے لیے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں تین روز تک جاری رہی، جس میں دو ریاستی حل کے لیے واضح اور غیر قابل واپسی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

دو ریاستی حل کیا ہے؟

دو ریاستی حل ایک بین الاقوامی منصوبہ ہے جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کو بھی ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے 1967ء میں قبضے میں لی گئی فلسطینی زمین پر فلسطینی ریاست قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

تاہم یہ راستہ کئی رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے، جن میں مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تیزی سے تعمیر، سرحدوں، فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی اور القدس کی حیثیت جیسے بنیادی مسائل شامل ہیں۔

پس منظر

سنہ1947ء میں اقوامِ متحدہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی، لیکن عرب لیگ نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا، جبکہ یہودی قیادت نے اسے قبول کیا تھا۔ 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کا اعلان ہوا اور اگلے ہی روز عرب ممالک نے جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے 77 فیصد فلسطینی زمین پر قبضہ کر لیا۔ تقریباً 7 لاکھ فلسطینی بے دخل ہو کر پڑوسی ممالک یا غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں پناہ گزین بن گئے۔

آج اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں مگر اقوامِ متحدہ نے اب تک اسے رکن ریاست تسلیم نہیں کیا، جس کا مطلب ہے کہ دنیا کے لاکھوں فلسطینی تاحال کسی ریاست کے باضابطہ شہری نہیں سمجھے جاتے۔

فلسطینی خودمختاری کی کوششیں

سنہ1993ء میں اوسلو معاہدوں کے ذریعے امن عمل کا آغاز ہوا، جس میں مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابین نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی قائم ہوئی، مگر یہ عمل بعد میں رکاوٹوں کا شکار ہو گیا۔

سنہ2007ء میں حماس نے غزہ پر کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان متعدد جنگیں ہو چکی ہیں۔ حماس نے 1988ء کے منشور میں اسرائیل کے خاتمے کی بات کی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں اس نے 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کی مشروط پیشکش کی ہے۔ اسرائیل ان بیانات کو "دھوکہ" قرار دیتا ہے۔

علاقائی صورتحال

حالیہ دہائیوں میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے، جس سے دو ریاستی حل کی عملی حیثیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں آبادکاری اور دیوارِ حائل کی تعمیر پر فلسطینی قیادت شدید تحفظات رکھتی ہے۔

اس وقت مغربی کنارے کے 60 فیصد علاقے، جن میں سرحدیں، سکیورٹی زونز اور آبادکار بستیاں شامل ہیں، اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی ان علاقوں میں جزوی خود مختاری رکھتی ہے۔

سات جولائی کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں، لیکن ان کے مطابق مستقبل میں فلسطینی ریاست اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے سکیورٹی پر مکمل اختیار اسرائیل ہی کے پاس رہنا چاہیے۔

دو ریاستی حل کا مستقبل

اگرچہ 2005ء میں اسرائیل نے غزہ سے انخلاء کر لیا تھا، مگر اس کے بعد مغربی کنارے میں آبادکاری کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ "پیس ناؤ" جیسی اسرائیلی تنظیموں کے مطابق 1993 میں آبادکاروں کی تعداد 2.5 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 7 لاکھ ہو چکی ہے۔

دوسری جانب 7 اکتوبر 2023ء کو جنوبی اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور امن عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی کوششیں اور سعودی قیادت میں ہونے والی سفارتی پیش رفت، خطے میں دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں