موبائل لیبارٹری: سعودی عرب میں شجر کاری کے منصوبوں کو تیز کرنے کا ڈیجیٹل نظام

یہ لیبارٹری ماحولیاتی بحالی کے کاموں کی معاونت کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں قومی شجر کاری پروگرام نے آغاز سے ہی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت مملکت میں سبزے کی مجموعی سطح میں اضافہ ہوا، صحراؤں کے پھیلاؤ پر قابو پایا گیا، شجر کاری کو فروغ دیا گیا اور بنجر زمینوں کی بحالی کے اقدامات کیے گئے۔ یہ سارے اقدامات "Saudi Green Initiative" کے اہداف کا حصہ ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پورے ملک میں 10 ارب درخت لگانے اور تقریباً 4 کروڑ ہیکٹر زمین کو بحال کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس مقصد کے لیے پروگرام میں "موبائل لیبارٹری" کا استعمال کیا جا رہا ہے جو شجر کاری اور انسدادِ صحرا کاری کے منصوبوں کو تیز تر اور مؤثر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ لیبارٹری ایک ڈیجیٹل نظام سے لیس ہے جو موقع پر حاصل ہونے والے اعداد و شمار فوری طور پر ریکارڈ کرتا ہے اور انہیں نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن اینڈ ڈیزرٹ فکیشن کنٹرول کے ڈیٹا بیس سے جوڑ دیتا ہے۔

موبائل لیبارٹری کے استعمال سے ماحول کی بحالی کے کاموں کو تقویت ملتی ہے اور سبزے کے منصوبوں کی پائے داری یقینی بنانے کے لیے درختوں کے اگاؤ کے معیار اور مؤثریت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ لیبارٹری موقع پر ہی مٹی، پانی اور پودوں کے تجزیے کرتی ہے۔

a25219f3-aa54-4cbb-a0cb-f8f1b7429311
a25219f3-aa54-4cbb-a0cb-f8f1b7429311

اس کے ذریعے وہ تمام ماحولیاتی عوامل بھی جانچے جاتے ہیں جو سبزے پر اثر انداز ہوتے ہیں، مثلاً مٹی کا معیار، نمی کی سطح اور پودوں کی صحت وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نظام سبزے کی مستقل نگرانی بھی ممکن بناتا ہے، کیونکہ یہ درست اور فوری معلومات فراہم کرتا ہے جس سے فیصلوں کی مؤثریت بڑھتی ہے اور منصوبوں کی پائے داری میں بہتری آتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ماحولیاتی نگرانی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ شجر کاری کے کاموں میں "موبائل لیبارٹری" کا استعمال مملکت میں مٹی اور سبزے کی حالت کے بارے میں ایک جامع اور درست قومی ڈیٹا بیس مہیا کرتا ہے۔ اس طرح سعودی عرب کی خطے اور دنیا بھر میں ماحولیاتی حوالے سے اہمیت مزید بڑھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں