چند سادہ عادات جو گہری نیند لانے میں معاون ہیں
تازہ دم گہری نیند کی کمی صحت عامہ اور دماغی افعال پر منفی اثر ڈالتی ہے
پر سکون اور گہری نیند حاصل کرنے میں مشکل مایوسی کا باعث بنتی ہے اور یہ صورت حال میٹابولزم، دماغی افعال اور صحت عامہ کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سونے کی سادہ عادات تازہ دم گہری نیند کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین کی ایک تحقیق جریدہ ”سیل رپورٹس میڈیسن“ میں شائع ہوئی۔ رپورٹ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ نیند کے دوران ہم آہنگ دماغی لہریں، جنہیں سست لہریں اور ”سلیپ سپنڈلز“ کہا جاتا ہے، خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
نتائج سے پتہ چلا ہے کہ بہتر ہم آہنگی رکھنے والے افراد نے اگلے دن انسولین کی حساسیت میں بہتری کا تجربہ کیا۔ یہ نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ دماغ کے قدرتی نیند کے سوئچ کو فعال کرنا حقیقی اور ٹھوس صحت کے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ سادہ شام کی عادات دماغ کو اس گہری اور تازہ دم کرنے والی حالت میں داخل ہونے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ اس سے طویل مدت میں آرام اور میٹابولک صحت بہتر ہوتی ہے۔ سونے کے معمولات کو بہتر بنانے، گہری نیند کو فروغ دینے اور ہر صبح حقیقی تازگی کے ساتھ بیدار ہونے کے لیے سائنسی طور پر ثابت شدہ حکمت عملیاں موجود ہیں۔
گہری نیند، جسے سست لہر والی نیند بھی کہا جاتا ہے، نیند کے چکر کا سب سے زیادہ تازہ دم کرنے والا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے کے دوران نیند جسم کے ٹشوز کی مرمت کرتی ہے، اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے، یادداشت کو بڑھاتی ہے اور انسولین سمیت اہم ہارمونز کو منظم کرتی ہے۔ صحت مند نیند کی عادات کو ترجیح دینا گہری نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔ ان عادات میں سونے سے پہلے الیکٹرانک آلات کے استعمال کو کم کرنا اور نیند کا ایک باقاعدہ شیڈول برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔
اس کے برعکس گہری نیند کی کمی ذیابیطس، دل کی بیماری اور ادراک میں کمی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے منسلک ہے۔ اسی وجہ سے نیند کے اس مرحلے کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ سونے سے پہلے مخصوص عادات پر عمل کرنا دماغ میں نیند کے قدرتی طریقہ کار کو فعال کر سکتا ہے اور گہری نیند کو بہتر بنا سکتا ہے۔ الیکٹرانک آلات کا استعمال کم کرنا، روشنیاں مدھم کرنا، آرام کی تکنیکوں پر عمل کرنا اور نیند کا ایک باقاعدہ شیڈول برقرار رکھنا دماغ کو دوبارہ فریش کرنے والا آرام دینے کے لیے اہم ہے۔
1. روشنیاں مدھم کرنا
شام میں تیز روشنی میلاٹونن کی پیداوار کو دبا سکتی ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو سونے کے وقت نیند کا اشارہ دیتا ہے۔ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے روشنی کی نمائش کو کم کرنا دماغ کو تازہ دم نیند کے لیے تیار کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے نیند کا معیار اور صحت عامہ بہتر ہوتی ہے۔ روشنی کی شدت کو کم کرنا اور سکرینوں سے گریز کرنا یا گرم رنگوں والی لائٹس کا استعمال کرنا، سونے کے وقت کو زیادہ پر سکون اور قدرتی بنا سکتا ہے۔
2. سکرین کا وقت کم کرنا
موبائل فون، ٹیبلٹ اور ٹیلی ویژن نیلی روشنی خارج کرتے ہیں جو میلاٹونن کی پیداوار میں خلل ڈالتی ہے۔ نیند کی قدرتی تال کو سہارا دینے کے لیے سونے سے کم از کم 30 سے 60 منٹ پہلے سکرینوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ شام میں سکرین کا وقت کم کرنا نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ عادت تیزی سے سونے میں مدد کر سکتی اور آرام کے مجموعی احساس کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس پرسکون سرگرمیاں جیسا کتاب پڑھنا، مراقبہ، یا ہلکی پھلکی ورزشیں بھی گہری نیند کے لیے آرام دہ ہو سکتی ہیں۔
3. سونے سے پہلے پرسکون معمول
ہلکی پھلکی ورزش، مراقبہ، پڑھنا یا پرسکون موسیقی سننا دماغ اور نیند کو آرام پہنچا سکتا ہے۔ سونے سے پہلے کا ایک باقاعدہ معمول اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ گہری نیند میں جانے کا وقت ہو گیا ہے۔
4. باقاعدہ نیند کا شیڈول
روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانا اور بیدار ہونا جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے گہری نیند میں داخل ہونا اور اس میں زیادہ دیر تک رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ مستقل مزاجی بہتر ہارمونل ریگولیشن، بہتر مزاج، بہتر ادراکی افعال اور وقت کے ساتھ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
5. ماحول بہتر بنانا
اس بات کو یقینی بنائیں کہ سونے کا کمرہ ٹھنڈا، تاریک اور پرسکون ہو۔ اس میں آرام دہ بستر اور کم شور شامل ہو تاکہ خلل کم ہو سکے اور گہری نیند کے دورانیے کو فروغ ملے۔
6 ۔ صحت مند طرز زندگی
ایک صحت مند اور متوازن طرز زندگی پر عمل کرنا نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس طرز زندگی میں متوازن غذا بھی شامل ہے۔ سونے سے فوراً پہلے بھاری کھانا اور کیفین نیند کے چکروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس پروٹین اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ایک ہلکا اور متوازن کھانا بہتر نیند میں مدد کر سکتا ہے ۔ سونے سے پہلے زیادہ سیال پینے سے گریز بھی بہتر ہے۔
اسی طرح باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی صحت مند طرز زندگی کا ایک عمل ہے۔ ورزش نیند کے انداز کو بہتر بناتی ہے اور گہری نیند کے دورانیے کو بڑھاتی ہے۔ سونے سے فوراً پہلے سخت ورزش سے گریز کرنا چاہیے۔
7 ۔ ماہرین سے مشورہ
اگر ان عادات پر عمل کرنے کے باوجود نیند کی مشکلات جاری رہتی ہیں تو یہ کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کا مناسب وقت ہو سکتا ہے۔ یہ مستقل مسائل بے خوابی، نیند کے دوران سانس کے رک جانے یا دیگر بنیادی صحت کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے لیے نیند کے معیار اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے طبی تشخیص اور مخصوص علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ جلد مداخلت پیچیدگیوں کو روک سکتی ہے اور طویل مدت میں صحت کو سہارا دے سکتی ہے۔