امریکہ کی طویل خانہ جنگی (1861ء - 1865ء) کے اختتام کے پر امریکہ شدید اقتصادی بحران سے دوچار ہو گیا جو کئی برسوں تک جاری رہنے والی جنگ کا نتیجہ تھا۔
امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں بیشتر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکے تھا، جبکہ غلامی کے خاتمے نے اس خطے کی معیشت کو جھٹکا دیا کیونکہ برسوں سے زرعی نظام انہی غلاموں پر چل رہا تھا۔
دوسری جانب شمالی علاقوں میں پیداوار کے طویل تعطل نے ملک کو سخت معاشی نقصان پہنچایا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکی عوام نے اپنی معیشت کی بحالی کا عمل شروع کیا۔ مگر 1877 تک حالات دوبارہ بگڑنے لگے، جب ریلوے کے شعبے میں مزدوروں کی ایک بڑی ہڑتال نے ملک میں مسلح تصادم اور ایک نئی خانہ جنگی کے خطرے کو جنم دے دیا۔
سخت اور ظالمانہ حالات کار
خانہ جنگی کے بعد امریکہ میں آہستہ آہستہ اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی شروع ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی صنعتی ترقی میں بھی اضافہ ہوا، جس کا سہرا ریلوے نیٹ ورک کے پھیلاؤ، کان کنی، کوئلے اور تیل کے شعبوں کی ترقی کو جاتا ہے۔
اُس دور میں ریلوے لائنیں امریکہ میں ترقی اور صنعتی پیش رفت کی علامت بن گئیں کیونکہ انہوں نے فاصلے کم کیے اور مغربی امریکہ تک رسائی تیز تر بنا دی۔
ترقی کے باوجود ریلوے مزدور انتہائی مشکل مالی اور سماجی حالات سے دوچار تھے۔ اُس زمانے میں لاکھوں مزدور ریلوے کے شعبے یا اس سے متعلق صنعتوں میں کام کر رہے تھے۔
1873 تک آتے آتے امریکہ ایک شدید اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آ گیا۔ بڑے بڑے بینکوں کے دیوالیہ ہونے اور بندش کا شکار ہونے کے بعد ملک طویل معاشی کساد بازاری میں ڈوب گیا، جو پورے عشرے تک جاری رہی۔
تیز رفتار تبدیلیاں
ان تمام معاشی حالات نے ریلوے کے شعبے میں بحران کو مزید گہرا کر دیا کیونکہ بڑے پیمانے پر بے ترتیب برطرفیوں کے نتیجے میں بیروزگاری کی شرح بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ ریلوے کمپنیوں کے مالکان نے اپنے اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے کئی بار مزدوروں کی تنخواہیں کم کر دیں۔
مزید برآں ریلوے کے مزدور انتہائی سخت اور غیر انسانی حالات میں کام کرتے تھے۔ وہ روزانہ 14 گھنٹے تک کام کرنے پر مجبور تھے، جبکہ انہیں بہت قلیل اجرت دی جاتی تھی۔ اس شعبے میں کام کے دوران حادثات عام تھے اور اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا تو اسے کسی قسم کا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ اسے کام کے قابل نہ ہونے کے باعث برطرف کر دیا جاتا۔
مزدوروں کو یہ ظالمانہ حالات برداشت کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ حکومتی اہلکار ہمیشہ کمپنی مالکان کے ساتھ کھڑے رہتے تھے اور اس دور میں مزدور یونینوں کو غیر قانونی تنظیمیں قرار دیا گیا تھا۔
ہڑتال کے واقعات
جب ریلوے مزدوروں کی تنخواہوں میں مزید 10 فیصد کمی کی گئی تو بالٹی مور اوہائیو ریلوے لائن پر کام کرنے والے مزدوروں نے 14 جولائی 1877 کو مارتنزبرگ (Martinsburg) مغربی ورجینیا میں بغاوت کر دی۔
انہوں نے ریلوے لائنیں بند کر دیں اور ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کر کے اجتماعی ہڑتال کا آغاز کیا۔ اس دوران شہر کے بہت سے رہائشی بھی ان کی حمایت میں شامل ہو گئے۔
رفتہ رفتہ احتجاج اور ہڑتالوں کی لہر دوسرے امریکی علاقوں تک پھیل گئی، خاص طور پر پنسلوانیا، الینوائے اور نیویارک کی ریاستوں میں۔ اسی دوران کان کنی، معدنیات اور بندرگاہوں میں کام کرنے والے دیگر مزدور بھی اس تحریک میں شامل ہو گئے، جس کے نتیجے میں پورے ملک کے بیشتر شعبے مفلوج ہو گئے۔
کئی شہروں میں یہ ہڑتالیں ابتدا ہی سے خونریز شکل اختیار کر گئیں۔ پٹسبرگ (Pittsburgh) میں زخمی مزدوروں اور ملیشیا فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں 40 افراد ہلاک ہوئے اور شہر کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔اسی طرح کئی بڑے شہروں میں احتجاجات بغاوت کی صورت اختیار کر گئے، جہاں مزدوروں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور شہری راستوں اور داخلی دروازوں کو بند کر دیا۔
ہڑتال ناکام بنانے میں 100 افراد کی ہلاکت
جب یہ خدشہ بڑھنے لگا کہ یہ ہڑتالیں 1871 کی پیرس کمیون جیسے بغاوتی مظاہروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں تو امریکی صدر ردر فورڈ ہیز (Rutherford B Hayes) نے حکم دیا کہ قومی افواج وفاقی دستے اور غیر سرکاری ملیشیائیں میدان میں اتاری جائیں تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے اور ہڑتالوں کو طاقت کے ذریعے ختم کیا جائے۔
تقریباً 52 دن تک جاری رہنے والی اس ہڑتال کے بعد، امریکی فورسز نے تمام شہروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا اور ہڑتال کو مکمل طور پر کچل دیا۔ ان واقعات کے دوران تقریباً 100 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ ہڑتال اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
ہڑتال کے اختتام پر بھی مزدوروں کی اجرتیں کم ہی رہیں اور ان میں مزید کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران مزدور یونینوں پر سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔