کونسی تین غذائیں ایک ساتھ کھانے سے پیٹ میں اپھارا ہو سکتا ہے؟
کھانے کے بعد پیٹ پھول جانا یا گیس بننا ایک عام مسئلہ ہے، جس سے بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ عموماً اس کی وجہ زیادہ کھانا یا کچھ مخصوص غذائیں کھانا سمجھی جاتی ہے۔
یہ مسئلہ ہمیشہ کھانے کی قسم میں نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات مختلف غذاؤں کو ایک ساتھ کھانے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔
کچھ غذائی امتزاج (Combinations) ایسے ہوتے ہیں جو ہاضمے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں اور آنتوں میں خمیر بننے (Fermentation) کا باعث بنتے ہیں، جس سے گیس، پیٹ میں اپھارا اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔
ظاہری طور پر بعض صحت مند غذائیں جیسے پھل اور دہی کا امتزاج یا زیادہ پروٹین والی سلاد بھی حیرت انگیز طور پر پیٹ پھولنے کا سبب بن سکتی ہیں، اگر ان کے اجزاء مختلف رفتار سے ہضم ہوتے ہوں۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی ایک رپورٹ کے مطابق تین اہم غذائیں ایسی ہیں، جنہیں ایک ساتھ کھانے سے پیٹ میں گیس اور اپھارا پیدا ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ان سے بچنے کے لیے چند اہم مشورے بھی دیے گئے ہیں۔
دودھ کی بنی چیزیں اور نشاستہ دار غذائیں
اگرچہ پیزا یا چیز بریڈ جیسی غذائیں بہت مزیدار ہوتی ہیں، لیکن یہ نظامِ ہضم پر بوجھ ڈالتی ہیں۔ دودھ کی مصنوعات جیسے پنیر اور دودھ ایسی پروٹینز اور چکنائیاں رکھتی ہیں، جو ہضم ہونے میں مشکل ہوتی ہیں۔ جب انہیں نشاستہ دار غذاؤں جیسے روٹی یا پاستا کے ساتھ کھایا جاتا ہے تو ہاضمہ مزید سست ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نشاستہ خمیر بناتا ہے اور گیس و پیٹ پھولنے کا باعث بنتا ہے۔
اس اثر کو کم کرنے کے لیے بہتر ہے کہ دودھ یا پنیر کو ہری پتوں والی سبزیوں جیسے قلفہ کا ساگ یا بند گوبھی کے ساتھ کھایا جائے، کیونکہ یہ سبزیاں پتے کی رطوبت (بائل جوس) کو بڑھاتی ہیں اور چکنائی ہضم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
مزید بہتر ہاضمے کے لیے بکری یا بھیڑ کے دودھ سے تیار پنیر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی کھانے میں پودینہ یا سونف شامل کرنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور گیس بننے میں کمی آتی ہے۔
پھل اور پروٹین یا نشاستہ دار غذائیں
پھل عام طور پر بہت جلد ہضم ہو جاتے ہیں،لیکن جب انہیں پروٹین یا نشاستہ دار غذاؤں کے ساتھ کھایا جائے، تو وہ معدے میں زیادہ دیر تک رکے رہتے ہیں۔ اس دوران پھلوں میں موجود قدرتی شکر خمیر بناتی ہے، جس سے گیس اور پیٹ پھولنے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
اسی لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ پھل ہمیشہ الگ سے کھائیں یا کھانے کے بعد کم از کم 30 سے 60 منٹ انتظار کریں پھر پھل کھائیں۔
کھانے کے فوراً بعد میٹھے کے طور پر پھل کھانا یا انہیں دہی کے ساتھ ملانا اگرچہ یہ بظاہر صحت مند انتخاب لگتا ہے ۔ لیکن نرم معدے والے افراد میں یہ پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کا بہتر متبادل یہ ہے کہ پھل خالی پیٹ صبح کے وقت ناشتے سے تھوڑا پہلے کھائے جائیں۔
ایک سے زیادہ پروٹین کو ملانا
اگرچہ پروٹین پٹھوں اور جسمانی ٹشوز کی تعمیر کے لیے نہایت ضروری ہے، لیکن ایک ہی کھانے میں دو یا زیادہ پروٹین ذرائع (جیسے چکن کے ساتھ لوبیا یا انڈے کے ساتھ گوشت) کھانا نظامِ ہضم پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ ہر کھانے میں صرف ایک بنیادی پروٹین ذریعہ استعمال کیا جائے اور ساتھ میں غیر نشاستہ دار سبزیاں جیسے توری شملہ مرچ اور کھیرا شامل کیے جائیں۔
مثال کے طور پر بھاپ میں پکی ہوئی سبزیوں کے ساتھ بھنی ہوئی سالم مچھلی ایک متوازن اور آسانی سے ہضم ہونے والا کھانا سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں کھانوں کے امتزاج کا شعور اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ان کے انتخاب کا۔چھوٹی مگر سمجھدار تبدیلیوں کے ذریعے ہم غذائی اجزاء کے بہتر جذب، پیٹ کے پھولنے سے بچاؤ اور آرام دہ و متوازن ہاضمے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
-
ہلدی والی کافی کے حیرت انگیز صحت بخش فوائد جانیے!
کافی اپنی کیفین کی بدولت توانائی اور توجہ بڑھاتی ہے، کیونکہ یہ اعصابی نظام کو ...
بين الاقوامى -
ادھیڑ عمری میں تیس دنوں میں پیٹ کم کرنے کی پانچ بہترین ورزشیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ جسم میں چربی جمع ہونے کا طریقہ ایک خاص عمر کے بعد بدل جاتا ...
ایڈیٹر کی پسند -
روزانہ موسیقی سننا آپ کے ذہن کو جوان اور یادداشت کو مضبوط کرتا ہے!
ایک نئی تحقیق شاید آپ کو موسیقی سننے یا بجانے کی دعوت دے، کیونکہ اس کے نتائج ظاہر ...
ایڈیٹر کی پسند