دماغ کا انوکھا منظر… ایک نیا ڈیجیٹل ماڈل جو انسانی ذہن کے راز کھولتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انسانی دماغ کو سمجھنے کے لیے ایک نئے مرحلے کے دروازے کھل گئے ہیں۔سائنسدانوں نے دماغ کا سب سے دقیق نقشہ تیار کیا ہے، جو ایک حیرت انگیز ڈیجیٹل ماڈل ہے۔ اس ماڈل میں تقریباً 1 کروڑ (10 ملین) عصبی خلیات اور 26 ارب نیورل کنکشنز (synapses) شامل ہیں، جو 86 مربوط علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ ورچوئل نقشہ صرف ایک خاکہ یا تصور نہیں، بلکہ ایک زندہ سمیولیشن(Simulation) ہے جو جاپان کے سپر کمپیوٹر فوجاکو (Fugaku) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ فوجاکو دنیا کے تیز ترین کمپیوٹرز میں سے ایک ہے اور اس کی صلاحیت 400 کواڈریلیئن آپریشنز فی سیکنڈ تک پہنچتی ہے، جیسا کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے رپورٹ کیا ہے۔

امراض اور مرگی کے دورے سمجھنے میں مددگار

سائنسدان امید کرتے ہیں کہ یہ نقشہ ایسے سوالات کے جواب دینے میں مدد کرے گا، جن تک پہلے طبی ماہرین صرف پیچیدہ تجربات کے ذریعے حقیقی ٹشوز پر پہنچ سکتے تھے، جیسے:
اعصابی بیماریاں کیسے بنتی ہیں؟دماغی لہریں توجہ کو کس طرح متاثر کرتی ہیں؟مرگی کے دورے ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک کیسے پھیلتے ہیں؟
ڈاکٹر انتون آرخیبوف (Anton Arkhipov) نے سیئیٹل کے ایلن انسٹیٹیوٹ سے اس پروجیکٹ کو ایک بے مثال تکنیکی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ دماغ کا مکمل ماڈل تیار کرنا اب صرف سائنسی خیالی بات نہیں، بلکہ ایک حقیقت کے قریب قدم ہے۔
ڈاکٹر ٹیم جارسکائی کے مطابق ماڈلنگ ضروری ہو گئی ہے کیونکہ انسانی دماغ اتنا پیچیدہ ہے کہ اس کے خلیات کے تعامل کو سمجھنے کے لیے صرف حدس و گمان کافی نہیں۔

چوہے کے دماغ کی ساخت پر مبنی نقشہ

نیا نقشہ چوہے کے دماغ کی کارٹیکس (Cortex) پر مرکوز ہے، جو بصارت، فیصلہ سازی اور حرکت کے ذمہ دار حصہ ہے۔ اس کے روشن رنگ مختلف علاقوں کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ عصبی خلیات باریک شاخوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں جو جسم میں بجلی اور کیمیائی سگنلز کو حیرت انگیز رفتار سے منتقل کرتے ہیں۔
محققین توقع کرتے ہیں کہ یہ ماڈل ایک بڑے خواب کی شروعات ثابت ہوگا: پہلے چوہے کے دماغ کی مکمل مشابہ سازی اور پھر انسانی دماغ کا جامع ماڈل تیار کرنا، جس میں دونوں دماغوں کی ساختی مشابہت سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

جاپانی سپر کمپیوٹرجاپان کا سپر کمپیوٹر

فوجاکو (Fugaku) جسے پہلے دنیا کا سب سے تیز کمپیوٹر قرار دیا گیا تھا، اس پروجیکٹ میں استعمال کیا گیا تاکہ محدود وقت میں بے پناہ تعداد میں سمیولیشنز انجام دی جا سکیں،اتنی تعداد کہ اسے انسانوں کو 12اعشاریہ7 ارب سال لگیں گے اگر ہر سیکنڈ گنیں۔اگرچہ فوجاکو اب عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے، لیکن اس کا کردار بڑے پروجیکٹس جیسے فلکیات، موسمیاتی تحقیق اور ادویات کی دریافت میں بہت اہم ہے اور یہی اسے دماغ کے وسیع مطالعے جیسے اس ماڈل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بناتا ہے۔

اس نئے سمیولیشن کی تفصیلات SC25 سپر کمپیوٹنگ کانفرنس میں اس ہفتے سینٹ لوئس میں پیش کی جائیں گی، جو سائنسدانوں کے لیے دماغ کو سمجھنے اور شاید مستقبل قریب میں ڈیجیٹل طور پر دوبارہ بنانے کے نئے امکانات کھولے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں