چینی کا عام قدرتی متبادل جو شاید فالج کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے
ایریتھریٹول دماغی حفاظتی رکاوٹ (بلڈ،بریئن بیریئر) کی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے
ایریتھریٹول جو بہت سی غذائی مصنوعات میں پایا جاتا ہے،جیسے پروٹین بارز سے لے کر توانائی کے مشروبات تک کافی عرصے سے چینی کا محفوظ متبادل سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر سائنس الرٹ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا مٹھاس دہندہ جسم کی ایک اہم حفاظتی رکاوٹ کو خاموشی سے کمزور کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ہافووِی چیچگر بایومیڈیکل سائنس کی پروفیسر اینجلیا روسکن یونیورسٹی کے مطابق کولوراڈو یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایریتھریٹول دماغی حفاظتی رکاوٹ (بلڈ،بریئن بیریئر) کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ حفاظتی نظام دماغ میں مضر اجزاء کو داخل ہونے سے روکتا ہے اور ضروری غذائی اجزاء کی رسائی ممکن بناتا ہے۔
یہ نتائج سابق مشاہداتی مطالعےکی تشویشناک تفصیلات میں اضافہ کرتے ہیں، جنہوں نے ایریتھریٹول کے استعمال کو دل کے دورے اور فالج کے بڑھتے ہوئے خطرات سے جوڑا تھا۔
حالیہ تحقیق میں محققین نے دماغی حفاظتی رکاوٹ کے خلیوں کو ایریتھریٹول کی ان سطحوں کے سامنے رکھا جو عام طور پر اس مشروب کے استعمال کے بعد خون میں پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے خلیوں میں تسلسل وار نقصان کا مشاہدہ کیا، جو دماغ کو خون کے جمنے (تھراُمبوسس) کے زیادہ خطرے میں ڈال سکتا ہے،یہ فالج کا ایک اہم سبب ہے۔
دماغی خلیات کا نقصان
ایریتھریٹول نے وہ عمل شروع کیا، جسے سائنسدان آکسیڈیٹو اسٹریس کہتے ہیں، جس میں خلیے شدید ردعمل کرنے والے نقصان دہ مالیکیولز (فری ریڈیکلز) کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں اور ساتھ ہی جسم کے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس کی دفاعی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اس دوہرے حملے نے خلیوں کی درست طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا اور بعض صورتوں میں یہ خلیے مکمل طور پر ختم ہو گئے۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایریتھریٹول خون کی نالیوں کی خون کے بہاؤ کو منظم کرنے کی صلاحیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ صحت مند خون کی نالیاں خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے کام کرتی ہیں: جب اعضاء کو زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے (جیسے ورزش کے دوران) تو یہ پھیل جاتی ہیں اور جب ضرورت کم ہوتی ہے تو سکڑ جاتی ہیں۔ یہ توازن دو اہم مالیکیولز،نائٹرک آکسائیڈ (جو نالیاں پھیلانے میں مدد دیتا ہے) اور اینڈوتھیلن-1 (جو نالیاں سکڑاتا ہے) کے ذریعے قائم رہتا ہے۔
حیاتیاتی نظام کی خرابی
تحقیق سے پتہ چلا کہ ایریتھریٹول اس حیاتیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار کو کم اور اینڈوتھیلن-1 کی پیداوار کو بڑھا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خون کی نالیاں خطرناک حد تک سکڑ جاتی ہیں، جس سے دماغ کو آکسیجن اور غذائی اجزاء کی کمی ہو سکتی ہے۔ یہ خرابی فالج کی ایک قسم اسکیمک اسٹروک کے لیے ایک مشہور انتباہی نشان ہے، جو دماغ کی خون کی نالیوں میں خون کے جمنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
جسم کے دفاع کا نقصان
سنگین ضمنی اثرات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایریتھریٹول جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے ،جو خون کے جمنے کے خلاف کام کرتا ہے۔ عام طور پر جب خون کی نالیوں میں جمنے بنیں تو خلیے ٹشیو پلازمینوجن ایکٹیویٹر جاری کرتے ہیں ،جو رکاوٹ کو تحلیل کر دیتا ہے اور فالج سے بچاتا ہے۔ لیکن ایریتھریٹول نے اس حفاظتی عمل کو متاثر کیا، جس سے جمنے نقصان پہنچانے کے لیے آزاد ہو سکتے ہیں۔
دل کی بیماریاں اور فالج
یہ تجرباتی نتائج انسانی مطالعے سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ متعدد بڑے مشاہداتی مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ایریتھریٹول باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں، انہیں دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جن میں دل کے دورے اور فالج شامل ہیں۔
ایریتھریٹول چینی کے متبادل کے طور پر منفرد مقام رکھتا ہے۔ دیگر مصنوعی مٹھاس جیسے اسپارٹیم یا سکریلوز کے برعکس یہ ٹیکنیکلی ایک شوگر الکحل ہے،ایک قدرتی مرکب جو جسم میں چھوٹی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رہنما خطوط میں شامل نہیں کیا گیا، جنہوں نے وزن کنٹرول کے لیے مصنوعی مٹھاس کے استعمال پر انتباہ کیا۔ ایریتھریٹول غذائی صنعت میں بھی مقبول ہے کیونکہ یہ ذائقے اور استعمال میں شکر کے قریب ہے۔
چینی سے مٹھاس میں کم
سکریلوز چینی سے 320 گنا زیادہ میٹھا ہے، ایریتھریٹول تقریباً چینی کی 80فیصد مٹھاس فراہم کرتا ہے، جس سے اسے نسخوں میں استعمال کرنا آسان ہوتا ہے بغیر زیادہ ذائقہ پیدا کیے۔ یہ اب ہزاروں مصنوعات میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر "شوگر فری" اور "کیتو فرینڈلی" غذاؤں میں۔
یورپی فوڈ اسٹینڈرڈ ایجنسی اور امریکی ایف ڈی اے سمیت ریگولیٹری اداروں نے ایریتھریٹول کو محفوظ قرار دیا ہے۔ تاہم نئی تحقیق اس بڑھتی ہوئی شواہد کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ حتیٰ کہ "قدرتی" شوگر متبادل بھی غیر متوقع صحت کے خطرات رکھ سکتے ہیں۔
یہ نتائج صارفین کے لیے مشکل سوالات پیدا کرتے ہیں کہ چینی کی جگہ متبادل استعمال کرنے کے کیا فوائد اور خطرات ہیں۔ ایریتھریٹول جیسے مٹھاس کے متبادل وزن کنٹرول اور ذیابیطس کی روک تھام میں مددگار ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ کیلوریز کو کم اور خون میں شوگر کی بلند سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔لیکن اگر باقاعدہ استعمال دماغ کی حفاظتی رکاوٹ کو کمزور کرتا ہے اور دل و خون کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے، تو فوائد کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
جب سائنسدان ان تشویشناک روابط کا مزید مطالعہ کر رہے ہیں، صارفین کو چاہیے کہ وہ اس بظاہر بے ضرر مٹھاس کے متبادل کے استعمال پر دوبارہ غور کریں اور یہ سوال کریں کہ آیا کوئی بھی شوگر متبادل واقعی مکمل طور پر محفوظ ہے یا نہیں۔