انار کے دانے کھانا بہتر ہے یا اس کا جوس پینا؟

انار کا جوس فائبر کی کمی کی وجہ سے بلڈ شوگر بڑھا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

انار، دیگر پھلوں کی طرح، کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتا ہے جو گلوکوز (شوگر) میں تبدیل ہو جاتے ہیں جسے جسم توانائی کے ذریعہ استعمال کرتا ہے۔ ویب سائٹ ’’ویری ویل ہیلتھ ‘‘پر شائع رپورٹ کے مطابق کچھ صحت کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ خالی پیٹ انار کھانے سے بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ ہوئے بغیر توانائی ملتی ہے۔

خالی پیٹ انار کھانا

صحت کے ماہرین عام طور پر اس خیال کو فروغ دیتے ہیں کہ خالی پیٹ پھل کھانے سے خاص صحت کے فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ عمل ہاضمے یا غذائی اجزاء کے جذب میں مدد کرتا ہے۔ ڈلاس میں اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس کی ترجمان اور ماہرِ غذائیت کیرولین سوزِی کہتی ہیں کہ دل کی صحت اور اینٹی آکسیڈنٹس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے باقاعدگی سے اپنی غذا میں انار کو شامل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقاعدگی سے انار کھانا خالی پیٹ کھانے سے زیادہ اہم ہے۔

انار کا جوس اور بلڈ شوگر

انار کے دانے اور جوس دونوں سے غذائی اجزاء حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن صرف دانوں سے ریشہ (فائبر) ملتا ہے۔ دانوں کے ایک کپ میں 19 گرام شکر اور 6 گرام فائبر ہوتا ہے جبکہ جوس کے ایک کپ میں 34 گرام شکر ہوتی ہے اور ریشہ نہیں ہوتا۔ چونکہ جوس میں ریشہ کی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے اسے خالی پیٹ پینے سے دانے کھانے کے مقابلے میں بلڈ شوگر تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ فائبر ہاضمے کے عمل کو سست کرنے میں مدد کرتا ہے اور بلڈ شوگر میں اچانک اضافے کو روکتا ہے۔ پروٹین کا بھی اسی طرح کا اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ کاربوہائیڈریٹس کے جذب کو سست کرتا ہے۔

کیرولین سوزِی نے کہا کہ اگر آپ بلڈ شوگر بڑھنے کے بارے میں فکر مند ہیں تو جوس کی بجائے دانوں کا انتخاب کریں اور انہیں پروٹین جیسے یونانی دہی کے ساتھ ملا کر کھائیں۔ سوزی مزید کہتی ہیں کہ انار بہت زیادہ غذائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اسے کب کھایا جائے یا کیسے کھایا جائے۔ چاہے اسے دہی یا دلیا میں شامل کیا جائے یا سلاد میں ملایا جائےیا صبح اٹھتے ہی کھایا جائے۔ اس کے بہت سے غذائی فوائد ہیں۔

1- اینٹی آکسیڈنٹس

انار کو اکثر "سپر فوڈ" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پولیفینولز جیسے اینٹی آکسیڈنٹس پر مشتمل ہوتا ہے جو کینسر اور دل کی بیماریوں سے بچانے میں مدد کرتے ہیں۔ انار میں سبز چائے، جو اینٹی آکسیڈنٹس کا ایک عام ذریعہ ہے، سے تین گنا زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں۔ ایک حالیہ رینڈمائزڈ ٹرائل کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ انار کے عرق نے سوزش اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کی جس کی جزوی وجہ پھل میں اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار ہے۔

2- سوزش کی کمی

بڑھاپے کا تعلق سوزش میں اضافے سے ہوتا ہے جو ذیابیطس، دل اور عروقی امراض اور اعصابی تنزلی کے امراض میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انار غیر صحت بخش بڑھاپے سے متعلق سوزش کو کم کرنے کا ایک کم خرچ طریقہ فراہم کر سکتا ہے۔ دیگر مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ انار کا سوزش مخالف اثر ریمیٹائڈ گٹھیا، ایک آٹو امیون بیماری جو پورے جسم میں سوزش کا سبب بن سکتی ہے، کے انتظام میں لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔

3- توانائی میں اضافہ

انار میں موجود شکر توانائی کا فوری فروغ فراہم کر سکتی ہے۔ یہ فائدہ اس وقت بھی حاصل ہوتا ہے جب پھل کو خالی پیٹ نہ کھایا جائے۔

4- دل کی صحت کی حمایت

انار کھانے سے بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انار کے دانے کھانے سے ریشے کی مقدار میں اضافہ ہو سکتا ہے جو دل کی بیماریوں سے بچنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ سوزی نے مزید کہا کہ انار کھانے سے کچھ قلبی خطرے کے عوامل کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size