کیا اب کمپیوٹر انسانی دماغ کے خلیات کو استعمال کرکے تیار کیے جائیں گے؟
سائنس کی دنیا میں ایک نیا انقلاب
حیاتیات اور کمپیوٹنگ کا امتزاج اب سائنس فکشن کا تصور نہیں رہا۔ آج مصنوعی ذہانت کے ماہرین ایک نئی سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں زندہ انسانی دماغی خلیات کی بنیاد پر ایسے ’’حیاتیاتی کمپیوٹر‘‘ تیار کیے جا رہے ہیں جو سیکھنے، ڈھل جانے اور وہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں روایتی الیکٹرانک چِپس توانائی کے استعمال اور لچک کے لحاظ سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہ بات سائنس الرٹ نامی سائنسی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
ابتدائی مگر تیز پیش رفت
یہ شعبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مگر اب تک ہونے والی پیش رفت جیسے لیبارٹری میں اگائے گئے دماغی بافتوں کا کھیل سیکھ لینا یا آواز کی شناخت جیسے کام انجام دینا سائنس اور صنعت دونوں کی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ اس رفتار کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔
نمبر ایک، مصنوعی ذہانت کے ہر شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کا عمل۔
نمبر دو، لیبارٹری میں انسانی دماغ جیسی بافتوں کی تیاری کی ٹیکنالوجی کا زیادہ پختہ ہو جانا۔
نمبر تین، دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کی ٹیکنالوجیز میں نمایاں ترقی، جس نے زندہ خلیات کو الیکٹرانک نظاموں کے ساتھ جوڑنے کے خیال کو پہلے سے کہیں زیادہ قابل قبول بنا دیا ہے۔
کلیدی سوالات
تاہم اس سائنسی دوڑ کے ساتھ چند بنیادی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ کیا ہم واقعی کمپیوٹنگ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں؟ یا یہ محض ایک اور تکنیکی ہنگامہ ہے؟ اور سب سے اہم سوال کہ کیا ہم اخلاقی طور پر تیار ہیں کہ انسانی دماغ کو ’’چِپ‘‘ کے طور پر استعمال کریں؟۔
پچاس برس سے سائنس دان انسانی یا حیوانی اعصابی خلیات کو باریک برقی پلیٹوں پر اُگا کر ان کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں، مگر گذشتہ دو دہائیوں میں ’’دماغی عضیات‘‘ کے ظہور نے منظرنامہ بدل دیا۔ یہ وہ تین بُعدی چھوٹی بافتیں ہیں جو خلیاتِ ساق سے ازخود نشوونما پا کر ابتدائی اعصابی جالے تشکیل دیتی ہیں۔
یہ بافتیں آج ادویات کے تجربات اور اعصابی تحقیق میں عام استعمال ہو رہی ہیں۔ باوجود یہ کہ ان میں دماغ جیسی پیچیدگی یا شعور موجود نہیں، مگر ان میں منظم اعصابی حرکات اب نمایاں ہونے لگی ہیں۔ کچھ خود بخود یا برقی تحریک کے ذریعے ہیں۔
اہم موڑ
سنہ 2022 ءمیں آسٹریلیا کی کمپنی کورٹیکل لیبز نے اعلان کیا کہ اس کے تیار کردہ اعصابی خلیات کا جالہ ایک بند نظام میں مشہور گیم ’’پونگ‘‘ سیکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اگرچہ ’’مجسم احساس‘‘ نامی اصطلاح پر تنقید بھی ہوئی مگر اس تحقیق نے ’’عضیاتی ذہانت‘‘ کے تصور کی بنیاد رکھ دی۔
تحقیقات میں تیزی
گذشتہ چند ماہ کے دوران سائنسی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اس شعبے میں نمایاں تیزی دکھائی ہے۔ سوئس کمپنی فائنل اسپارک نے دنیا بھر کے محققین کو اعصابی عضیات پر مبنی چھوٹے کمپیوٹر ’’کرائے‘‘ پر فراہم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ دوسری جانب کورٹیکل لیبز اپنا پہلا حیاتیاتی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر CL1 متعارف کرانے کی تیاری میں ہے۔
امریکہ، چین اور آسٹریلیا کی ٹیمیں ان عضیات کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر کام کر رہی ہیں تاکہ انہیں پیچیدہ ڈیٹا ماڈلز میں استعمال کیا جا سکے، جس میں ایمیزون میں تیل کے دھبوں کی حرکت کا اندازہ لگانا جیسا کام بھی شامل ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلہ کسی ’’بیٹا ورژن‘‘ سے زیادہ نہیں۔ ان عضیات میں شعور ہے نہ سوچ اور نہ ہی انسانی نوعیت کی ذہانت، بلکہ صرف سادہ ردعمل اور محدود سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔
قانون اور اخلاقیات
فی الحال حیاتیاتی اخلاقیات کے قوانین ان عضیات کے طبی استعمال تک محدود ہیں، مگر جب انہیں ’’کمپیوٹر کے پرزے‘‘ کے طور پر استعمال کیا جائے گا تو ایک بالکل نئی قانونی و اخلاقی بحث جنم لے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا انسانی خلیات پر مشتمل ایسا کوئی جالہ کسی تحفظ کا مستحق ہے؟ ’’حیاتیاتی فعالیت‘‘ اور ’’ادراک سے ملتے جلتے رویے‘‘ کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے؟ اور کیا تجارتی دباؤ ایسے دماغی اجزا بنانے کی دوڑ کو خطرناک حد تک نہیں بڑھا دے گا؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تجارتی رفتار قانون سازی سے کہیں تیز ہے۔ اسی لیے فوری طور پر قوانین کی تجدید ناگزیر ہے تاکہ ٹیکنالوجی ایسی حدیں پار نہ کر جائے جن سے واپسی ممکن نہ رہے۔
سائنس دانوں کے مطابق آنے والے برس فیصلہ کن ہوں گے۔ یا تو یہ دماغی عضیات انتہائی کم توانائی کے ساتھ لچک دار کمپیوٹنگ کا نیا دور ثابت ہوں گی یا پھر یہ رجحان مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک عبوری مرحلہ ثابت ہو جائے گا۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ شعور، شناخت اور انسان و مشین کے امتزاج سے متعلق سوالات آئندہ برسوں میں مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔