دماغ زندگی کے چار مختلف مراحل میں خود کو دوبارہ فعال کرتا ہے:سائنسی تحقیق
جدید سائنسی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی میں ایسے اہم لمحات آتے ہیں ،جن میں بڑھاپے اور نشوونما کی رفتار میں تیز رفتاری دیکھنے کو ملتی ہے۔
برطانوی اخبار The Times کے مطابق برطانیہ، امریکہ، جرمنی اور چین کی حالیہ تحقیقات نے اس نظریے کو رد کیا ہے کہ انسان کی زندگی بچپن سے بڑی عمر تک ہموار اور بتدریج ترقی اور پھر انحطاط کے ایک خطی راستے پر چلتی ہے۔
نیوروسائنس جینیات، میٹابولزم(Metabolism) اور مائیکرو بایولوجی(Microbiology) کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زندگی میں کئی اہم موڑ یا تبدیلی کے لمحات آتے ہیں، جنہیں ''کنارے کی پرت''(Edges of the Abyss) کہا جاتا ہے، جہاں انسان کے جسم اور دماغ میں بڑے مالیکیولر اور تشریحی (Anatomical) تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
عمر کے اہم حصے: 9، 32، 66 اور 83 سال
کیلِفورنیا کی سٹینفورڈ یونیورسٹی نے 2024 میں ایک مطالعہ کیا، جس میں معلوم ہوا کہ چالیس اور ساٹھ کی دہائیوں میں خون کے مالیکیولر ساخت میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔اسی طرح ایک اور امریکی مطالعے نے خون کی پلازما میں موجود پروٹینز کا جائزہ لیا اور تیز رفتار بڑھاپے کی تین لہریں دریافت کیں، جو عمر کے 30، 60 اور 70 سال میں نمودار ہوتی ہیں۔
چینی مطالعے نے دماغی پروٹینز میں تبدیلیاں دیکھی، خاص طور پر عمر کے 50 اور 70 سال میں جو ادراک (Cognition) پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔لیکن سب سے مفصل مطالعہ جو گزشتہ ماہ کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نیوروسائنس نے شائع کیا،اس نے دماغ کی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں دریافت کیں، جو عمر کے 9، 32، 66 اور 83 سال میں ظاہر ہوتی ہیں۔
زندگی کے چار اہم مراحل
ڈاکٹر ایلیکسہ موسلی (DrAlexa Mosley )جنہوں نے 4216 افراد کے دماغی امیجز کا تجزیہ کیا، نے بتایا کہ ڈیٹا زندگی کے پانچ مراحل کی نشاندہی کرتا ہے:
بچپن: جو نو سال تک جاری رہتا ہے۔
نوعمری / نوجوانی : جو 32 سال تک چلتی ہے۔
بلوغت / بالغ عمر :جو 66 سال تک رہتی ہے۔
ابتدائی بڑھاپا :جو 83 سال تک جاری رہتا ہے۔
تاخری بڑھاپا :باقی زندگی کے لیے۔
ڈاکٹر موسلی نے وضاحت کی کہ دماغ کسی ایک خطی یا مستقل انداز سے ترقی نہیں کرتا۔ بلکہ یہ مختلف عمر کے ادوار میں دماغی فعالیت کے اتار چڑھاؤ کے مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔
دماغ کو دوبارہ فعال بنانا
یہ اہم لمحات اوسطاً عمر کے حساب سے ظاہر ہوتے ہیں، کیونکہ ہر فرد بالکل ایک ہی وقت پر ان تک نہیں پہنچتا۔ تاہم ڈیٹا میں واضح چھلانگیں دیکھی جاتی ہیں ،جو مخصوص عمروں کے گرد مرتکز ہیں۔یہ صرف زوال یا کمی کی کہانی نہیں ہے، دماغ خود کو دوبارہ سرگرم کرتا ہے، مطابقت اختیار کرتا ہے اور ہر نئے مرحلے کے چیلنجز اور مواقع سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں اپناتا ہے۔
نوعمری کا آغاز: نو سال کی عمر
جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ چلنا، بولنا اور اپنے شاندار دنیا میں حرکت کرنا سیکھتے ہیں، اس دوران دماغ میں اربوں اعصابی خلیات (Neurons) بنتے ہیں اور لمبے، گھومنے والے راستوں کے ذریعے جڑتے ہیں۔ یہ ایک شاندار عمل ہے، لیکن یہ ابتدا میں زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر موسلی کے مطابق پیغامات کو دماغ کے مختلف حصوں تک پہنچنے کے لیے لمبے راستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تقریباً نو سال کی عمر میں، یہ پیچیدہ عصبی نیٹ ورک منظم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ غیر ضروری عصبی رابطے کم کر دیے جاتے ہیں تاکہ زیادہ مؤثر راستے بن سکیں اور مخصوص دماغی علاقوں میں پہلی بار مقامی خصوصی نیٹ ورک تشکیل پاتے ہیں۔
ڈاکٹر موسلی اس مرحلے کو عصبی بچپن کے اختتام اور نوعمری کے آغاز کے طور پر بیان کرتی ہیں۔ اس کے بعد مزید عصبی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو بلوغت، ہارمونی تبدیلیوں اور جسمانی ارتقاء کے لیے بچے کو تیار کرتی ہیں تاکہ وہ بالغ زندگی کے لیے تیار ہو سکے۔
عصبی تبدیلیاں: 20 سال کی مدت
ڈاکٹر موسلی کے تجزیے کے مطابق یہ عصبی تبدیلیاں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہتی ہیں۔ یہ دماغی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں شخصیت کی تبدیلیوں اور مزاج کے اتار چڑھاؤ کی وضاحت کرتی ہیں، جو اکثر نوعمروں میں دیکھی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر موسلی کی ٹیم نے اپنے نتائج جو Nature Communications میں شائع ہوئے، میں لکھا:بچپن سے نوعمری کی طرف منتقلی کے دوران، ذہنی صحت کے مسائل کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، علمی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے اور سماجی، جذباتی اور رویے کی ترقی میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
بلوغت کا آغاز: 32 سال کی عمر
32 سال کی عمر میں دماغ اپنی بلوغت کی بلند ترین سطح پر پہنچتا ہے۔ نو سال کی عمر سے لے کر اس وقت تک دماغ اپنی بہترین حالت میں ہوتا ہے۔ عصبی لحاظ سے فرد اپنی ابتدائی تیس کی دہائی میں اپنی زیادہ تر صلاحیتوں کے عروج پر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر موسلی اس مرحلے کو عصبی پختگی کا آغازقرار دیتی ہیں۔ 32 سے 66 سال کی عمر کے درمیان، دماغ ایک طویل استحکام کی مدت سے گزرتا ہے۔اگرچہ یہ عصبی استحکام کا دور ہے، پھر بھی فزیولوجیکل تبدیلیوں کے اہم لمحات موجود رہتے ہیں۔
سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مطالعے میں خون کے بہاؤ میں 44 سال کی عمر کے گرد نمایاں مالیکیولر تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ یہ تبدیلیاں مردوں اور عورتوں دونوں میں ہوتی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس تبدیلی کا سبب قبل از حیض تبدیلیاں (Pre-menopause) نہیں ہے۔یہ تبدیلیاں کافیئن اور چکنائی کے میٹابولزم کی صلاحیت میں کمی لاتی ہیں اور مالیکیولر سطح پر ایسے اثرات پیدا کرتی ہیں، جو دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کے خطرات بڑھاتے ہیں اور جلد اور پٹھوں کی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔
ابتدائی بڑھاپا: 66 سال کی عمر
ڈاکٹر موسلی کی تحقیقات کے مطابق 66 سال کی عمر وہ مرحلہ ہے، جب بالغ ہونے کے دوران دماغ کے طویل استحکام کا دور ختم ہوتا ہے۔ اس عمر میں دماغ اپنی تنظیمی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لاتا ہے۔
ڈاکٹر موسلی کہتی ہیں:دماغ زیادہ مربوط اور مخصوص ہو جاتا ہے۔اب دماغ پوری نیورل نیٹ ورک کے ذریعے آزادانہ رابطے کے بجائے مخصوص دماغی علاقوں میں مضبوط مقامی گروپس بناتا ہے تاکہ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ ادراکی صلاحیتوں کو قربان کیا جاتا ہے ، جیسے گاڑی کی چابیاں کہاں رکھی ہیں یاد رکھنا تاکہ اہم یادداشتیں اور جذباتی تعلقات برقرار رکھے جا سکیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ تبدیلیاں صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے سے سست کی جا سکتی ہیں۔ جرمنی کے لیبنیز انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ کی ماہر مایا اولیکا کہتی ہیں:ان اہم نقاط میں کچھ فرق ہو سکتا ہے۔ان کا مشورہ ہے کہ دماغ کو متحرک رکھنا، جیسے یادداشت لکھنا یا اسی نوعیت کی سرگرمیاں، ذہنی تیزی برقرار رکھنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔
آخری تبدیلی کا مرحلہ: 83 سال کی عمر
ڈاکٹر موسلی کے مطابق 83 سال کی عمر وہ مرحلہ ہے جب دماغ دوبارہ خود کو منظم کرتا ہے۔ اس دوران دماغ میں ایک نظام محوری (Hub System) قائم ہوتا ہے، جہاں پیغامات کو مرکزی نقاط کے ذریعے دوبارہ بھیجا جاتا ہے تاکہ براہِ راست راستوں کے نقصان کی تلافی کی جا سکے۔
ڈاکٹر موسلی وضاحت کرتی ہیں:یہ ایسا ہے جیسے پہلے آپ کے کام جانے کے لیے ایک براہِ راست بس لائن تھی، لیکن اب وہ سروس بند ہو گئی ہے اور اس عمر میں شخص کو بس بدل کر دو مختلف بسیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو بڑھاپے کے آخری مرحلے میں دماغ میں رونما ہوتی ہے۔