ڈپریشن کے علاج کی ایپلی کیشنز زیرِ تفتیش، زیادہ تر سائنسی بنیادوں کے بغیر کام کر رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک ایسے وقت میں جب دنیا ڈپریشن کی شرح میں تشویشناک اضافے کی شاہد ہے۔ سمارٹ فون ایپلی کیشنز کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مریضوں کو ان کی ذہنی صحت بہتر بنانے میں مدد دینے کا وعدہ کرتی ہیں۔ تاہم ایک حالیہ سائنسی مطالعے نے خبردار کیا ہے کہ ان میں سے اکثر ایپلی کیشنز معتبر سائنسی شواہد پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ صورت حال ان ایپس کی تاثیر اور استعمال کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 1990 اور 2017 کے درمیان ڈپریشن کی تشخیص میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔ آج دنیا کی تقریباً 5 فیصد آبادی اس نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔ ویب سائٹ "میڈیکل ایکسپریس" نے کاتالونیا کی اوپن یونیورسٹی کے محققین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ ڈیجیٹل ایپلی کیشنز ایک مددگار حل کے طور پر ابھری ہیں۔ خاص طور پر جب انہیں براہ راست نفسیاتی علاج کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

محدود تاثیر اور نایاب شواہد

یونیورسٹی کی ڈیجیٹل ہیلتھ لیبارٹری کی ایک تحقیقی ٹیم نے ڈپریشن کے علاج کی ایپلی کیشنز کے معیار کا جائزہ لینے اور مریضوں اور ماہرین کے نقطہ نظر سے اہم ترین معیارات کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے نتائج سائنسی جریدے "BMJ Open" میں شائع ہوئے ہیں۔ محققین نے تقریباً 30 عام استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف آٹھ ایپلی کیشنز کو شائع شدہ سائنسی مطالعہ جات کی حمایت حاصل ہے۔ یہ معلوم ہوا کہ بھاری اکثریت میں ان کی علاج معالجے کی تاثیر ثابت کرنے والے کسی بھی ثبوت کی کمی ہے۔

اس مطالعے کی مرکزی محقق کارمی کاریون نے کہا کہ صحت کی ایپلی کیشنز کو بھی، ادویات کی طرح، منظور ہونے سے پہلے جانچ کے عمل سے گزرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کچھ ایپلی کیشنز کے عوامی صحت پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انہیں پیشہ ورانہ نگرانی کے بغیر استعمال کیا جائے۔

صارفین کے لیے کیا اہم ہے؟

اس مطالعے میں "ڈیلفی" نام کا ایک سائنسی طریقہ کار اپنایا گیا جس میں 43 شرکاء بشمول مریضوں اور ذہنی صحت کے ماہرین کی رائے لی گئی تاکہ ڈپریشن کے علاج کی ایپلی کیشن کے انتخاب کے وقت اہم ترین معیارات کا تعین کیا جا سکے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ کلینیکل تاثیر، دستاویزی سائنسی تعاون اور استعمال میں آسانی کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی حفاظت اور رازداری ترجیحات میں سرِفہرست رہی۔ شرکا نے ان ایپلی کیشنز کو ترجیح دی جو ماہرین کے ساتھ بات چیت کی اجازت دیتی ہیں، ہنگامی حالات میں رابطے کی سہولت فراہم کرتی ہیں اور ایک مکمل علاج کے منصوبے کا حصہ ہوتی ہیں۔ صارفین نے نفسیاتی علاج کی متبادل ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایپس کو ترجیح نہیں دیں۔

کاریون نے اشارہ کیا کہ ایپلی کیشن کے بنیادی مقصد کا تعین کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ایک ہی ایپلی کیشن میں بہت زیادہ فنکشنز بھرنے کے خلاف خبردار کیا جو اسے پیچیدہ اور غیر عملی بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی کم ہی بہتر ہوتا ہے۔ نفسیاتی ڈیٹا کی حساسیت کے پیش نظر، مطالعے میں رازداری کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی گئی، کیونکہ شرکاء نے صارفین کی معلومات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ خاص طور پر ان گروہوں کے لیے جو زیادہ کمزور ہیں۔ ایپس کے ڈیزائن میں صنفی فرق کو مدنظر رکھنے کی اہمیت بھی سامنے آئی کیونکہ مردوں اور عورتوں میں ڈپریشن کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔ خواتین میں اداسی اور جرم کے احساس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مردوں میں ڈپریشن اکثر چڑچڑے پن یا غصے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

ان نتائج کی روشنی میں محققین "EvalDepApps" کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل ٹول تیار کر رہے ہیں جس کا مقصد مریضوں اور ماہرین کو واضح سائنسی معیارات کی بنیاد پر موزوں ترین ایپلی کیشنز کے انتخاب میں مدد دینا ہے۔ توقع ہے اس ٹول کو عوامی استعمال کے لیے دستیاب کرنے سے پہلے آزمائشی مراحل سے گزارا جائے گا۔ منصوبے کے ذمہ داروں کو امید ہے کہ یہ ٹول نفسیاتی ایپلی کیشنز کی مارکیٹ کو منظم کرنے اور مریضوں کو ایسے ڈیجیٹل حل سے بچانے میں معاون ثابت ہوگا جو غیر موثر یا نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں