مراقبہ دماغی افعال میں مثبت تبدیلی کا باعث بنتا ہے: سائنسی مطالعہ
محققین نے اعلیٰ معیار کے دماغی معائنے استعمال کیے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مراقبہ کس طرح دماغی سرگرمی میں تبدیلی لا کر اعصابی نظام میں بے ترتیبی اور نظم کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے۔
مراقبہ صدیوں سے ذہنی سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر اب سائنس نے اس کے ایک اور حیران کن پہلو سے پردہ اٹھایا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ مراقبہ محض ذہن کو پُرسکون ہی نہیں کرتا بلکہ دماغی سرگرمیوں کو ازسرِنو ترتیب دے کر اس کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل دیتا ہے۔
دماغ کو سکون
ایک نئی تحقیق کے مطابق مراقبہ دماغی حرکیات میں گہری تبدیلی اور اعصابی روابط میں اضافہ کر کے دماغ کو پُرسکون بنا سکتا ہے۔ اس کا اثر کسی حد تک وہم پیدا کرنے والی ادویات سے مشابہ بتایا گیا ہے، جیسا کہ ویب سائٹ سائنس الرٹ نے رپورٹ کیا۔
مطالعے میں مزید کہا گیا ہے کہ مراقبہ کرنے والوں کو ایک مفروضہ حالت تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے جسے ’’دماغ کی نازک یا مثالی حالت‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں اعصابی روابط نہ بہت کمزور ہوتے ہیں اور نہ بہت مضبوط بلکہ ایک متوازن سطح پر ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت ذہنی لچک اور ادراکی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے۔
یہ تحقیق اطالوی نیشنل ریسرچ کونسل سے وابستہ اعصابی فعلیات کی ماہر انالیسا پاسکیلا کی قیادت میں کی گئی، جس میں اعلیٰ درجے کے دماغی معائنے اور مشین لرننگ کی تکنیکیں استعمال کی گئیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مراقبہ کس طرح دماغی سرگرمی میں تبدیلی لا کر اعصابی نظام میں بے ترتیبی اور نظم کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے۔
ابتدا میں محققین نے میگنیٹو اینسیفلاگرافی (MEG) کے ذریعے دماغی سرگرمی کی پیمائش کی، جس میں 12 راہبوں کے گروپ پر دو اقسام کے مراقبے اور غیر مراقبتی آرام کے دوران دماغی سرگرمی کا موازنہ کیا گیا۔ MEG دماغ میں برقی سگنلز سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدانوں کو ناپتا ہے۔
مطالعے میں شامل تمام افراد پیشہ ور مراقبہ کرنے والے تھے، جن میں سے ہر ایک نے اوسطاً 15 ہزار گھنٹوں سے زائد مراقبہ کیا تھا۔ تمام شرکا مرد تھے، جن کی عمریں 25 سے 58 برس کے درمیان تھیں۔
تحقیق میں مراقبے کے دو طریقوں کا جائزہ لیا گیا:سامَتا، جس میں توجہ کو کسی ایک شے مثلاً سانس پر مرکوز کیا جاتا ہے تاکہ ذہنی یکسوئی حاصل ہو۔ دوسرا طریقہ ویپاسنا، جس میں ذہن کو موجودہ لمحے پر مرکوز رکھا جاتا ہے، تاکہ احساسات، جذبات اور خیالات بغیر کسی جانبدارانہ فیصلے کے آزادانہ طور پر ابھر سکیں۔
مثالی توازن
اس حوالے سے یونیورسٹی آف مونٹریال کے ماہرِ اعصابیات اور تحقیق کے مرکزی مصنف کریم جربی نے وضاحت کی کہ سامَتا میں انسان اپنی توجہ کو یوں محدود کرتا ہے جیسے ٹارچ کی روشنی کو ایک نقطے پر مرکوز کیا جا رہا ہو، جبکہ ویپاسنا میں اس کے برعکس توجہ کا دائرہ وسیع کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ دونوں طریقے توجہ کے نظام کو مؤثر انداز میں متحرک کرتے ہیں اور اکثر مراقبہ کرنے والے ان کے درمیان باری باری عمل کرتے ہیں۔
شرکا کے دماغی سگنلز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ سامَتا مراقبہ ایک زیادہ مرکوز اور مستحکم دماغی کیفیت پیدا کرتا ہے، جو گہری توجہ میں مدد دیتی ہے، جبکہ ویپاسنا مراقبہ افراد کو دماغی توجہ کی مثالی حالت کے قریب لے جاتا ہے۔
یہ اصطلاح شماریاتی طبیعیات سے مستعار ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے دماغی افعال میں نظم کے بہترین توازن کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
محققین کے مطابق اس ’’مثالی نقطے‘‘ پر دماغ انتہائی توجہ اور بلند لچک کی حالت میں ہوتا ہے، جو معلومات کے ذخیرے، مؤثر پراسیسنگ اور بدلتے ہوئے کاموں کے ساتھ تیزی سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جربی نے مزید کہا کہ اس نازک حالت میں اعصابی نیٹ ورک اتنے مستحکم ہوتے ہیں کہ معلومات قابلِ اعتماد انداز میں منتقل ہو سکیں اور ساتھ ہی اتنے لچکدار بھی ہوتے ہیں کہ نئی صورتِ حال سے فوری طور پر ہم آہنگ ہو جائیں۔ یہ توازن دماغ کی سیکھنے، عمل کاری اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔
دیگر اختلافات
تحقیق میں کچھ دیگر فرق بھی سامنے آئے۔ مثال کے طور پر سامَتا مراقبہ حسی نیٹ ورکس کو زیادہ فعال کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جس سے مراقبہ کرنے والے کسی خاص احساس، جیسے سانس پر بہتر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔
اسی طرح محققین نے حیران کن طور پر دماغی سرگرمی کی ایک قسم جسے گاما اوسیلیشنز کہا جاتا ہے،اس میں کمی نوٹ کی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مراقبہ بیرونی محرکات کی پروسیسنگ کو کم کر کے اندرونی توجہ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ ماضی کی کچھ تحقیقات میں اس سرگرمی میں اضافے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم اس مطالعے میں سگنلز کی درست شناخت کے لیے جدید تکنیکیں استعمال کی گئیں۔
ایک تاریک پہلو
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نئی تحقیق کے نتائج اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مراقبہ ذہنی الجھن سے آگاہی کی طرف منتقلی کو فروغ دے سکتا ہے۔ 12 شرکا میں سے مراقبہ کرنے والوں کے دماغی حالات میں مراقبے اور آرام کے دوران کم فرق دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی دماغی حرکیات مراقبے کے دوران بھی آرام کی کیفیت سے مشابہ ہو گئی تھیں۔
تاہم دیگر تحقیقات میں باقاعدگی سے مراقبہ کرنے والوں کے ایک ’’تاریک پہلو‘‘ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں کچھ افراد نے بے چینی، افسردگی، وہم یا عمومی خوف جیسے مسائل کی شکایت کی۔ یہ ممکنہ منفی اثرات اکثر کم رپورٹ کیے جاتے ہیں، حالانکہ یہ پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ عام ہو سکتے ہیں۔