جوہری تنصیبات کے قریب کینسر سے اموات کی شرح زیادہ:امریکی تحقیق میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جوہری توانائی کے ممکنہ صحت اثرات پر ایک نئی تحقیق نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ماہرین کی تازہ رپورٹ میں بعض علاقوں میں کینسر سے اموات کے رجحان پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین کی قیادت میں کی گئی ایک حالیہ قومی امریکی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو امریکی کاؤنٹیاں فعال جوہری بجلی گھروں کے زیادہ قریب واقع ہیں، وہاں کینسر سے اموات کی شرح دور واقع کاؤنٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

یہ تحقیق 23 فروری کو سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی جو اکیسویں صدی کی پہلی ایسی جامع اسٹڈی ہے جس میں امریکا کے تمام جوہری پاور پلانٹس اور تمام کاؤنٹیوں کی سطح پر اس تعلق کا جائزہ لیا گیا، جیسا کہ سائنسی ویب سائٹ سائنس ڈیلی کی رپورٹ میں بتایا گیا۔

محققین نے 2000 سے 2018 تک کے عرصے کا احاطہ کیا اور ''مسلسل قربت ''(Continuous Proximity) کا طریقہ استعمال کیا، جس کے ذریعے ہر کاؤنٹی کی ایک یا ایک سے زیادہ پاور پلانٹس سے قربت کی سطح ناپی گئی، بجائے اس کے کہ صرف ایک تنصیب کا مطالعہ کیا جاتا۔

اس تحقیق میں پاور پلانٹس کے مقامات اور ان کے آپریشن سے متعلق معلومات امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن سے حاصل کی گئیں، جبکہ کاؤنٹی سطح پر کینسر سے اموات کے اعداد و شمار بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (CDC) سے لیے گئے۔

نتائج کو زیادہ درست بنانے کے لیے ممکنہ اثر انداز عوامل کو بھی شامل کیا گیا، جن میں آمدنی، تعلیم، نسلی ساخت، تمباکو نوشی اور موٹاپے کی شرح، اوسط درجہ حرارت ، نمی اور قریبی اسپتال سے کاؤنٹی کا فاصلہ شامل تھے۔

سماجی، ماحولیاتی اور صحت سے متعلق عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی یہی رجحان برقرار رہا کہ جو کاؤنٹیاں جوہری بجلی گھروں کے جتنا قریب تھیں، وہاں کینسر سے اموات کی شرح اتنی ہی زیادہ تھی۔ یہ تعلق خاص طور پر معمر افراد میں زیادہ مضبوط پایا گیا۔

محققین کے اندازے کے مطابق مطالعے کے دوران تقریباً 1 لاکھ 15 ہزار کینسر اموات (یعنی اوسطاً تقریباً 6400 سالانہ) ایسی تھیں ،جو شماریاتی طور پر جوہری پاور پلانٹس کی قربت سے منسلک پائی گئیں۔

ان اعداد و شمار کا کیا مطلب ہے؟

محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نتائج یہ ثابت نہیں کرتے کہ جوہری پاور پلانٹس ہی اموات کی وجہ بنے، بلکہ یہ صرف ایک ایسا تعلق ظاہر کرتے ہیں، جس کی مزید گہری وضاحت درکار ہے۔

مزید یہ کہ تحقیق میں تابکاری کی سطحوں کی براہِ راست پیمائش شامل نہیں تھی اور یہ مفروضہ رکھا گیا کہ تمام پاور پلانٹس کا ممکنہ اثر یکساں ہے، جو اس مطالعے کی نمایاں طریقۂ کار کی حدود میں سے ایک ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ نتائج ان کی ماساچوسٹس ریاست میں کی گئی، ایک سابقہ تحقیق سے مطابقت رکھتے ہیں، جس میں جوہری تنصیبات کے قریب کینسر کے کیسز کی شرح زیادہ پائی گئی تھی۔

نیوکلیئر پاور پلانٹس (اسٹاک)
نیوکلیئر پاور پلانٹس (اسٹاک)

یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کم اخراج والی توانائی کے حل کے طور پر جوہری توانائی کی حمایت بڑھ رہی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ممکنہ صحت کے اثرات (اگر واقعی موجود ہوں) کو سمجھنا محفوظ اور پائیدار توانائی کی پالیسی بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اگرچہ یہ تحقیق وسیع پیمانے پر کی گئی اور اس میں کئی اثر انداز عوامل کو قابو میں رکھا گیا، جس سے اس کے شماریاتی نتائج مضبوط ہوتے ہیں، تاہم تابکاری سے براہِ راست متاثر ہونے کی پیمائش کا نہ ہونا اور مطالعے کا مشاہداتی (observational) ہونا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ صرف اسی تجزیے کی بنیاد پر وجہ اور اثر کا قطعی تعلق ثابت کیا جا سکے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک سائنسی اشارہ ضرور سامنے آیا ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، مگر اسے حتمی فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔ اگلے مرحلے میں زیادہ تفصیلی مطالعات درکار ہوں گے، جن میں درست ماحولیاتی پیمائشیں اور انفرادی سطح کے تجزیے شامل ہوں، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ جوہری پاور پلانٹس کے قریب رہنا واقعی براہِ راست صحت کا خطرہ ہے یا اس تعلق کی وجہ کوئی اور غیر مشاہدہ شدہ عوامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں