''یہ میرے لیے مناسب نہیں''… اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کا آسان طریقہ
انسان سالوں کی مشق کے بعد بھی اکثر انکار کو نرم انداز میں پیش کرتا ہے، اس کے ساتھ بہانے اور معذرتیں جوڑ دیتا ہے، تاکہ دوسرا فرد یہ فیصلہ کرے کہ کیا اس کی حدود کا احترام کرنا ضروری ہے۔
مثال کے طور پر لوگ کہتے ہیں:''میں نہیں کر سکتا'' کیونکہ'' میں یہ کرنا چاہوں گا''، لیکن…مجھے افسوس ہے، بس مسئلہ یہ ہے۔پھر وہ انتظار کرتے ہیں کہ دوسرا شخص ان کے بہانے کو پرکھے اور فیصلہ کرے یا دلیل رد کرے تاکہ وہ ہار مان لیں۔
Global English Editing کے مطابق سائیکولوجی میں ایک بہتر جملہ موجود ہے ،جو سب کچھ بدل دیتا ہے۔ یہ جملہ پرسکون انداز میں بغیر کسی وضاحت یا معذرت کے کہا جاتا ہے:''یہ میرے لیے مناسب نہیں ''۔
بغیر وضاحت کےحدود مقرر کرنا
بچپن سے ہی بہت سے لوگوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اپنی حدود بیان کرنا بغیر وضاحت کے خود غرضی یا جارحیت ہے۔ لیکن یہ رویہ خالی جگہ سے نہیں آیا، بلکہ ایسے ماحول سے پیدا ہوا، جہاں "نہیں" کہنے پر تنبیہ، سزا یا محبت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اگر انسان یہ سیکھ جائے کہ انکار تب ہی قابل قبول ہے ،جب اس کی وضاحت کی جائے، تو وہ بڑا ہو کر یہ سمجھتا ہے کہ اس کی راحت اور حدود بحث کے قابل ہیں، جب تک کہ وہ ثبوت پیش نہ کرے۔
سائیکولوجسٹ بیٹ ووکر جو پیچیدہ نفسیاتی صدمات کے ماہر ہیں، اس رویے کو'' چمکنے والا ردعمل'' (Appeasement Response) کہتے ہیں۔
یہ صدمے کے چار ممکنہ ردعملوں میں سے ایک ہے، باقی تین ہیں: مواجہہ، فرار اور جم جانا ہے۔ اس ردعمل میں فرد دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے اپنی جذباتی ضروریات اور حدود کو قربان کرتا ہے تاکہ تعلقات میں محفوظ رہے۔
ووکر نے اس رویے کو ''ودودانہ طرز'' بھی کہا، جس میں افراد دوسروں کی خواہشات اور مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنی حفاظت کرتے ہیں، گویا کسی تعلق میں شامل ہونے کی قیمت اپنی ضروریات حقوق اور ترجیحات سے سمجھوتہ کرنا ہے۔ یہ رویہ نرمی یا مہربانی نہیں بلکہ ایک خودکار بقا کا طریقہ ہے، جو خطرے کے ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
ذاتی حدود کی وضاحت
مسئلہ یہ ہے کہ حدود بیان کرتے وقت وضاحت یا بہانے دینا ان کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ کمزور کرتا ہے۔Psychology Today کے مطابق زیادہ وضاحت دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ حدود پر بحث کی جا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی کہے:میں نہیں آ سکتا کیونکہ صبح جلدی ملاقات ہے،تو اس نے دوسرے کو دلیل دینے کا موقع دے دیا۔
دوسرا شخص کہہ سکتا ہے: بس ایک گھنٹہ ہوگا یا جلدی کر لو، تو آ جاؤ۔ اس طرح وہ حدود کو چیلنج کرنے کے اوزار حاصل کر لیتا ہے۔لیکن جب کوئی کہتا ہے: یہ میرے لیے مناسب نہیں اور بات ختم کر دیتا ہے، تو اب بحث کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ یہ سادہ حقیقت ہے، جس پر کوئی اعتراض یا رد نہیں کیا جا سکتا۔
جذباتی محنت
جب کوئی شخص اپنی حدود کی وضاحت کے لیے بہانے یا وضاحت دیتا ہے، تو وہ ایک چھوٹا لیکن تھکا دینے والا عمل انجام دیتا ہے تاکہ اپنی جذباتی کیفیت کو قابو میں رکھ سکے۔ وہ توجیہ تیار کرتا ہے، ممکنہ اعتراضات کا اندازہ لگاتا ہے، دوسرے کی ردعمل پر نظر رکھتا ہے اور اپنی آواز یا رویے کو بدلتا ہے تاکہ سخت یا سرد ظاہر نہ ہو اور اس طرح اپنی حدود کے بارے میں دوسروں کے جذبات کو منظم کرتا ہے۔
سماجی ماہر آرلی ہوک شیلڈ نے اس عمل کو جذباتی محنت (Emotional Labor) کا نام دیا، یعنی اس کی کوشش کہ اپنے بیرونی جذبات کو صورتحال کی توقعات کے مطابق ظاہر کیا جائے۔
یہ عمل اکثر سطحی اظہار (Surface Acting) کہلاتا ہے، جس میں فرد وہ جذبات ظاہر کرتا ہے جو وہ حقیقت میں محسوس نہیں کرتا۔
مثال کے طور پر جب کوئی شخص مسکراتا ہے جبکہ اسے کوئی چیز ناگوار لگ رہی ہو یا اپنی حدود کے لیے معذرت کرتا ہے، تو وہ سطحی اظہار کر رہا ہوتا ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ سطحی اظہار جذباتی تھکن، بے چینی اور ڈپریشن سے جڑا ہوا ہے۔جبکہ یہ میرے لیے مناسب نہیںکہنا بغیر وضاحت،نہ صرف حد سے بڑھ جانانہیں، بلکہ ایک صحت مند رویہ ہے، بلکہ یہ دوسرے کے لیے غیر ضروری جذباتی محنت کرنے سے اجتناب بھی فراہم کرتا ہے۔
اعصابی نظام اور حد بندی کی مشق
جب کوئی شخص وضاحت کے بغیر اپنی حدود مقرر کرنے کی مشق کرتا ہے، تو اس کے اعصابی نظام میں تبدیلی آتی ہے۔ وقت کے ساتھ وہ سیکھتا ہے کہ صاف گوئی کوئی تباہی نہیں لاتی۔
اس کے نتیجے میں:احساسِ جرم کم ہوتا ہے،تناؤ کی شدت گھٹتی ہےاور فرد میں حزم (Assertiveness) پیدا ہوتا ہے ، یعنی اپنی ضروریات کو بغیر جارحیت یا منفی رویے کے واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت۔یہ کوئی پیدائشی صفت نہیں، بلکہ ایک مہارت ہے، جو مشق کے ساتھ مضبوط ہوتی ہے۔
تھیوری آف سیلف ڈٹرمینیشن کے مطابق انسانی تین بنیادی نفسیاتی ضروریات ہیں:
خودمختاری (Autonomy)
مہارت (Competence)
تعلق (Relatedness)
ان میں سے خودمختاری یعنی یہ شعور کہ آپ کے اعمال آپ کے اپنے انتخاب سے ہیں اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے نہیں حد بندی کے سب سے زیادہ متعلق ہے۔
اس لیے جملہ یہ میرے لیے مناسب نہیںفرد کی خودمختاری بحال کرتا ہے، کیونکہ یہ کہتا ہے:میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں آپ سے اجازت نہیں مانگ رہا، صرف اطلاع دے رہا ہوں۔
تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ جب افراد کی خودمختاری کی ضروریات پوری ہوں، تو وہ زیادہ خوش پرعزم اور ذہنی طور پر صحت مند رہتے ہیں۔ جبکہ اگر خودمختاری دبائی جائے، یعنی افراد پر کنٹرول یا جبر ہو، تو فلاح و بہبود کمزور پڑ جاتی ہے۔
-
ChatGPTلاکھوں لوگوں کے لیے ذہنی صحت کا مشیر: نئی تحقیق کی تصدیق
ایک وسیع عالمی سروے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ عوام کا مصنوعی ذہانت پر اعتماد ایک نیا رخ ...
مشرق وسطی -
کال آف ڈیوٹی سے میمز تک: وائٹ ہاؤس کی ویڈیوز تنازعہ کا سبب بن گئیں
ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد وائٹ ہاؤس نے کئی ویڈیوز جاری ...
بين الاقوامى -
غلط معلومات کی آن لائن اشاعت پر یو اے ای میں 10 افراد کی گرفتاری
متحدہ عرب امارات میں پبلک پراسیکیوشن نے 10 مختلف قومیتوں کے افراد کی گرفتاری کا ...
مشرق وسطی