متوازن طرز زندگی بڑھاپے کی رفتار سست کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سائنس الرٹ ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آرام اور سرگرمی کے لیے مستقل اور یکساں وقت مختص کرنے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے منظم معمولات کو اپنانا حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار کو سست کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

جونز ہوبکنز بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک ٹیم کی سربراہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ روزمرہ کی زندگی کے معمولات تبدیل ہونے لگتے ہیں، مثال کے طور پر بڑی عمر کے لوگ جلدی سونے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یہ نئے نتائج اشارہ کرتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں براہ راست حیاتیاتی بڑھاپے سے جڑی ہو سکتی ہیں۔

منظم اور متوازن روٹین

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر روزمرہ کا ایک منظم اور متوازن معمول زندگی میں جلدی اپنا لیا جائے تو اس کا بڑھاپے کو روکنے پر اثر پڑ سکتا ہے اور یہ طویل و صحت مند زندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم فی الوقت یہ اشارے صرف علامات ہیں اور کوئی حتمی ثبوت نہیں ہیں۔

بڑھاپا ۔ آئسٹاک
بڑھاپا ۔ آئسٹاک

جونز ہوبکنز بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہر نفسیات آدم سبایرا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ آرام اور سرگرمی کے معمولات بالغ افراد میں فسیولوجیکل بڑھاپے کی شرح جانچنے کے لیے مفید اشارے ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگر مستقبل کی تحقیقات نے ان نتائج کی تائید کی تو یہ معمولات بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ممکنہ اہداف کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔

چار جینیاتی اشارے

محققین نے 207 معمر افراد کی پورے ایک ہفتے کی سرگرمیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں انہوں نے حرکت، نیند اور روشنی کے اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی مطالعہ کیا کہ ان معمولات میں کتنا تسلسل ہے، آرام اور سرگرمی کب عروج پر پہنچتی ہے اور آرام و سرگرمی کے اوقات کے درمیان کتنا فرق پایا جاتا ہے۔

لمبی عمر کا راز ۔۔ آئسٹاک
لمبی عمر کا راز ۔۔ آئسٹاک

اس کے بعد اس ڈیٹا کا موازنہ چار جینیاتی کلاک انڈیکیٹرز سے کیا گیا۔ یہ تمام گھڑیاں حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے خون میں موجود بائیو مارکرز کو تھوڑے مختلف طریقوں سے استعمال کرتی ہیں، جس کے لیے ڈی این اے پر موجود ان کیمیائی اشاروں کو تلاش کیا جاتا ہے جو ٹوٹ پھوٹ اور نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بڑھاپے کی رفتار تیز ہونے کے شواہد

اگرچہ تمام اشارے مکمل طور پر ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے تھے، لیکن باقاعدہ اور متوقع معمولات اور حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار سست ہونے کے درمیان مضبوط تعلق پایا گیا۔ جن لوگوں کے نظام الاوقات بکھرے ہوئے تھے، جن کی زندگی میں سرگرمی اور آرام کے درمیان بہت زیادہ تبدیلی آتی تھی اور جو غیر منظم معمولات پر چلتے تھے، ان میں حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار تیز ہونے کے شواہد ملے۔

حیاتیاتی ردھم

جونز ہوبکنز بلومبرگ کے ماہر جینیات بريون ماهر کا کہنا ہے کہ یہ نتائج گذشتہ مطالعہ جات سے مطابقت رکھتے ہیں جن میں روزمرہ کے حیاتیاتی ردھم میں خلل کو سوزش میں اضافے اور دماغ کے سکڑنے سے جوڑا گیا تھا۔

دوسرے لفظوں میں ایسا لگتا ہے کہ انسانی جسم باقاعدہ اور متوقع نظام الاوقات کو پسند کرتا ہے جو اس کے 24 گھنٹے کے حیاتیاتی ردھم کے عین مطابق ہو۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ حیاتیاتی ردھم صحت سے گہرا تعلق رکھتا ہے، کیونکہ یہ جسم کو بتاتا ہے کہ کب آرام کا وقت ہے اور کب سرگرمی کا۔ جب یہ ردھم بگڑ جاتا ہے تو صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جیسا کہ مثال کے طور پر نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں