حج سیزن

میدان عرفات کی تاریخی مسجد نمرہ، حجۃ الوداع کے خطبہ کے مقام پر تعمیر کی گئی

110 ہزار مربع میٹر رقبہ پر مشتمل مکہ مکرمہ کو دوسری بڑی مسجد کے 6 مینار اور 3 گنبد ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نمرہ مسجد عرفات کے میدان کی اہم ترین علامات میں سے ایک ہے۔ ضیوف الرحمن آج مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مسجد نمرہ میں دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ظہر کے وقت میں ادا کیا جائے گا۔

یہ وہ مسجد ہے جسے دوسری صدی ہجری کے وسط میں خلافتِ عباسیہ کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تھا۔ اس مسجد کا ایک جزء وادی عرنہ میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی روشنی میں عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے سوائے وادی عرنہ کے۔ وادی عرنہ میدان عرفات کا حصہ نہیں ہے۔

مسجد نمرة
مسجد نمرة

نمرہ مسجد عرفات کے مشاعر میں سے ایک مشعر ہے۔ یہ اہم ترین تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔ مسجد نمرہ کو تاریخ کی کتابوں میں کئی ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اسے مسجد ابراہیم، مسجد عرفہ اور مسجد عرنہ بھی کہا گیا ہے۔

مسجد عرفہ کا نام ایک گاؤں سے لیا گیا جو عرفہ سے باہر تھا۔ اس گاؤں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رہائش پذیر ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کے بعد پیدل چل پر بطن الوادی پہنچے اور ظہر اور عصر کی نماز ادا کی۔

سعودی ریاست کے دور میں مسجد نمرہ کی سب سے بڑی توسیع کی گئی۔ اس طرح مکہ مکرمہ کے علاقے میں مسجد نمبرہ رقبے کے اعتبار سے مسجد حرام کے بعد دوسری بڑی مسجد بن گئی ہے۔

مسجد نمرہ
مسجد نمرہ

اس مسجد کی توسیع پر 237 ملین ریال لاگت آئی تھی۔ مسجد کی مشرق سے مغرب تک لمبائی 340 میٹر ہے اور شمال سے جنوب تک چوڑائی 240 میٹر ہے۔ اس کا رقبہ 110 ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے پیچھے مسجد کا سایہ دار علاقہ ہے جس کا رقبہ تخمینا 8 ہزار مربع میٹر بنتا ہے۔

مسجد نمرة
مسجد نمرة

مسجد نمرہ میں تقریباً ساڑھے 3 لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مسجد کے 6 مینار ہیں۔ ہر ایک کی اونچائی 60 میٹر ہے۔ مسجد کے 3 گنبد اور 10 مرکزی دروازوں سے گزر کر آگے 64 دروازے ہیں۔ اس میں ایک بیرونی نشریاتی کمرہ ہے جو خطبہ حج کی ترسیل کے لیے کام آتا ہے۔ اسی طرح یوم عرفہ کی ظہر کی نماز سیٹلائٹ کے ذریعہ براہ راست پوری دنیا میں دکھائی جاتی ہے۔

مسجد نمرہ میں 9 ذو الحج یوم عرفہ کے دن صبح سے ہی حجاج کرام کی آمد شروع ہوجاتی ہے۔ لوگ خطبہ حج سننے کے لیے مسجد میں ایسی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں جہاں سے وہ براہ راست خطبہ حج دینے والے امام صاحب کو دیکھ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں