عرفات کے مقدس میدان میں حجاج کرام کی جبلِ رحمت کی جانب آمد کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ہر سمت "لبیک اللہم لبیک" کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ حاجی بلند آواز میں تلبیہ کے ساتھ ہاتھ اٹھائے روحانی کیف و سرور کے عالم میں جبلِ رحمت کی طرف عازم سفر ہیں۔ غروبِ آفتاب کے بعد وہ مشعرِ مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے اور وہیں شب گزاریں گے۔
اسی دوران جبلِ رحمت سے متصل علاقے میں ایک جامع ترقیاتی منصوبہ مکمل کیا گیا ہے، جس کا مقصد اللہ کے مہمانوں کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنانا ہے۔
عرفات کی وسعتوں میں مختلف سرکاری ادارے پوری تیاری کے ساتھ موجود ہیں، جن میں سکیورٹی، طبی اور بلدیاتی محکمے شامل ہیں۔ ان اداروں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔ جبلِ رحمت ہسپتال، متعدد طبی مراکز اور فوری طبی امداد کی پوائنٹس زائرین کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد ممکن ہو سکے۔
ادھر "کِدانہ" کمپنی نے مسجد نمرہ کے اطراف 85 ہزار مربع میٹر رقبے کو سایہ دار بنانے اور اسے ترقی دینے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ یہاں 320 چھتریاں، 350 اسپرے ستون اور شجرکاری کی گئی ہے تاکہ حجاج کو بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں 60 ہزار مربع میٹر کے علاقے میں سایہ دار اور ٹھنڈے راستے بھی تیار کیے گئے ہیں جنہیں اسپرے پنکھوں سے لیس کیا گیا ہے تاکہ سورج کی تپش کم کی جا سکے۔
جبلِ عرفات کی اہمیت
جبلِ رحمت یا جبلِ عرفات مکہ مکرمہ کے مشہور مذہبی و تاریخی پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جہاں یومِ عرفہ کو حجاج قیام کرتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے اسی پہاڑ کے دامن میں موجود چٹانوں پر وقوف فرمایا تھا اور فرمایا "میں نے یہاں وقوف کیا اور سارا عرفات وقوف کی جگہ ہے"۔
یہ پہاڑ "جبل الرحمت" کے نام سے مشہور ہے، جب کہ اسلامی تاریخی کتب میں اسے "جبل إلال" اور بعض روایات میں "النابت" بھی کہا گیا ہے۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ "النابت" ان ہی چٹانوں کا نام ہے جن پر نبی کریم ﷺ نے قیام فرمایا تھا۔