امریکا کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں تاخیر پر تشویش
شامی حکومت تاخیری حربے استعمال کررہی ہے:چک ہیگل
امریکا نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے عمل میں اسد حکومت کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے جمعرات کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:''مجھے نہیں معلوم کہ شامی حکومت کے محرکات کیا ہیں۔وہ نااہل ہے یا پھر وہ کیوں کیمیائی مواد کو حوالے کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔انھیں اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا۔''
ادھر امریکا میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے صدراوباما کے طیارے ائیرفورس ون میں دوران پرواز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کیمیائی ہتھیاروں کی بندر گاہ (اللاذقیہ) تک نقل وحمل اسد رجیم کی ذمے داری ہے تاکہ انھیں تباہ کرنے کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جاسکے۔ہمیں امید ہے کہ شامی حکومت اس ضمن میں اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے گی''۔
واضح رہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے تحت 31 دسمبر تک بیرون ملک منتقل کیا جانا تھا لیکن اس عمل میں شام کی جانب سے سکیورٹی وجوہ کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے۔اب شام کے بیرون ملک منتقل کیے جانے والے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو اپریل تک ٹھکانے لگایا جائے گا اور باقی ہتھیاروں کو جون تک تلف کیا جائے گا۔تاہم ان کم خطرناک ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
شام نے ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو)کے ڈائریکٹر جنرل احمد ازمچو کو بعض سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا ہے لیکن اس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کو جلد سے جلد ٹھکانے لگانا چاہتا ہے''۔
درایں اثناء امریکا کا ایک بحری جہاز ایم وی کیپ رے بحر متوسطہ کی جانب رواں دواں ہے۔اس جہاز پر شام کے سب سے خطرناک کیمیائی ہتھیار بیرون ملک منتقل کیے جائیں گے۔ان میں مسٹرڈ گیس اور اعصاب شکن سیرن گیس کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مواد شامل ہے۔
اب تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی دوکھیپیں ہی ٹھکانے لگانے کے لیے بیرون ملک منتقل کی گئی ہیں۔ شام کی بندرگاہ اللاذقیہ سے ڈنمارک اور ناروے کے مال برادر بحری جہازوں کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کو اٹلی کی بندرگاہ جیویا تورو پر لنگر اندز کیپ رے پر منتقل کیا جارہا ہے۔
کیپ رے پر دو ہائیڈرالسیس سسٹمز مشینیں نصب ہیں۔ان میں شام کے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو پانی اور دوسرے کیمیکلز کے آمیزے کے ساتھ ملایا جائے گا اور پھر انھیں تلف کرنے کے لیے دوسرے ممالک یا اداروں کے حوالے کردیا جائے گا۔ اوپی سی ڈبلیو کے مطابق چودہ تجارتی کمپنیوں نے کم خطرناک اور کم ترجیح والے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کی پیش کش کی تھی۔تنظیم اب ان کی پش کشوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
-
امریکا نے شمالی شام کے لیے غیر مہلک امداد روک لی
اسلامی جنگجوؤں کے حزب اختلاف کی فورسز کے گوداموں پر قبضے کے بعد فیصلہ
مشرق وسطی -
امریکا شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرے گا:او پی سی ڈبلیو
قریباً 1000ٹن کیمیائی مواد کو بحری جہاز کے ذریعے سمندر کی نذر کیا جائے گا
بين الاقوامى -
کیمیائِی ہتھیار شام سے باہر تلف کرنا بہتر ہے: او پی سی ڈبلیو
شام سے باہر تلفی پر امریکا اور روس کا بھی اتفاق ہے
مشرق وسطی -
امریکا کی شام اور ایران پرسعودی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش
عرب گروپ کا سعودی عرب کو سلامتی کونسل کی نشست سنبھالنے پراصرار
بين الاقوامى -
شام: امریکا روس معاہدہ، عمل اقوام متحدہ کی توثیق سے مشروط
یو این معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دیں گے: شامی وزیر اطلاعات
مشرق وسطی -
روس اور امریکا کا شام کے کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے پر اتفاق
جیش الحر نے معاہدہ مسترد کر دیا، جنگ جاری رکھنے کا اعلان
بين الاقوامى