.

ترکی: انتخابی نتائج مخالف مظاہرین زبردستی منتشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں قریباً ایک ہزار مظاہرین نے سپریم الیکٹورل کونسل کے باہر بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کیا ہے اور پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا ہے۔

مظاہرین نے انقرہ میں بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔ان انتخابات میں وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی قیادت میں عدل اور ترقی پارٹی نے برتری حاصل کی ہے۔مظاہرین رجب طیب ایردوآن کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اورانھیں چور قراردے رہے تھے۔اس دوران پولیس اہلکار آگئے اورانھوں نے انھیں منتشر کردیا۔

حکمراں جماعت نے حالیہ کرپشن اسکینڈل کے باوجود استنبول اور انقرہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی برتری برقرار رکھی ہے۔تاہم حزب اختلاف نے بعض جگہوں پر اتوار کو پولنگ کے دوران بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے ہیں اور انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

استنبول میں مئیر کے انتخاب میں شکست سے دوچار ہونے والے امیدوار مصطفیٰ سری گل نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''انتخابی نتائج خواہ کچھ ہی رہے ہوں،لیکن بدقسمتی سے ہماری جمہوریت کی تاریخ میں ان انتخابات کو مشکوک ہی قراردیا جائے گا''۔

بلدیاتی انتخابات کے سرکاری حتمی نتائج کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے لیکن ترکی کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عدل اور ترقی پارٹی نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے قریباً چوالیس فی صد حاصل کیے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی نے 26 سے 28 فی صد تک ووٹ حاصل کیے ہیں۔

سی ایچ پی کو ترکی کی سیکولر اشرافیہ میں مقبول خیال کیا جاتا ہے لیکن وہ ملک کی سات کروڑ ستر لاکھ آبادی میں سے رجسٹرڈ ووٹروں کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس جماعت نے انقرہ اور جنوبی ساحلی شہر انطالیہ میں انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور استنبول میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیاہے۔

لیکن الیکشن کونسل کا کہنا ہے کہ جب تک تمام بے ضابطگیوں کا جائزہ نہیں لے لیا جاتا،اس وقت تک حتمی سرکاری نتائج کا اعلان نہیں کیا جائے گا لیکن اس عمل میں ہفتوں لگ سکتے ہیں کیونکہ سی ایچ پی نے صرف انقرہ میں آٹھ لاکھ انتخابی عذرداریاں دائر کی ہیں۔