.

ایرانی جوہری تنازعہ، مذاکرات کی میز پھر سج گئی

مذاکرات کا سخت دور ہے: ترجمان کیتھرین آشٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو حتمی معاہدے کے تابع کرنے کیلیے ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیاں مذاکرات کی میز ایک مرتبہ پھر سجنے کے بعد مذاکرات کا آج دوسرا دن ہے۔ تمام فریق سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق حتمی معاہدہ جولائی میں ممکن بنا سکیں۔

ویانا کے برساتی موسم میں جوہری مذاکرات آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم دونوں اطراف سے فی الحال یہی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا یہ دور بڑا سخت ہو سکتا ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے شعبے کی سربراہ کیتھرین آشٹن جو کہ ان مذاکرات میں کوآرڈینیشن کی ذمہ داری بھی انجام دے رہی ہیں کے ترجمان کا اس بارے میں کہنا ہے '' پہلے دن کی بات چیت مفید اور سیر حاصل تھی، اس ماحول میں امید ہے کہ آج بھی بڑے سنجیدہ اور سخت ماحول میں بات چیت ہو گی۔ ''

امریکی دفتر خارجہ کا ایک ذمہ دار اس بارے میں پہلے ہی کہہ چکا ہے ''رابطے اور ماہرین کے اجلاس سارا دن جاری رہیں گے۔'' واضح رہے پہلے ہونے والے مذاکرات کے تین ادوار کے بعد اب کی بار ہدف حتمی معاہدے کیلیے ڈرافٹ کی تیاری ہے۔

یہ ساری پیش رفت پچھلے سال جون میں ڈاکٹر حسن روحانی کے صدر بننے کے بعد ممکن ہوئی ہے جنہوں نے اپنے پیش رو کے مقابلے میں اعتدال کی راہ اپنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں پچھلے سال 24 نومبر کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ابتدائی معاہدہ ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ایران پر عاید پابندیوں میں قدرے نرمی کر دی گئی تھی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ 20 جولائی تک ایران، امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات کے تین مزید دور ممکن ہو جائیں گے۔ تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کیلیے آج ہونے والا دور انتہائی اہم ہے۔