ساٹھ طالبات بوکو حرام کی قید سے فرار
فرار عسکریت پسندوں کے ایک کارروائی پر جانے سے ممکن ہوا
بوکوحرام کی حراست سے ساٹھ سے زائد خواتین اور لڑکیاں بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ فرار ہو کر گھروں کو بحفاظت پہنچنے والی ان خواتین اور طالبات کو ان کی دیگر تقریبا ڈیڑھ سو ساتھیوں کو پونے تین ماہ قبل اغواء کیا گیا تھا۔
ایک مقامی سکیورٹی ذمہ دار کے مطابق اس کے رفقاء کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ 63 کے قریب خواتین اور طالبات بوکو حرام کی قید سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ اور جمعہ کو رات گئے گھروں کو پہنچ گئی ہیں۔ نائیجیریا کی ریاست بورنو کے دارالحکومت میڈوگری میں سکیورٹی سے متعلق اس ذمہ دار نے یہ بات بتائی ہے۔
سکیورٹی اہلکار عباس گاوا نے صحافیوں کو بتایا خواتین کر فرار ہونے کا موقع اس وقت ملا جب بوکو حرام جنگجو ایک عسکری کارروائی کے لیے گئے تھے۔ '' خواتین نے جرات کی اور اغواء کنندگان کے کارروائی کے لیے جانے کے باعث موقع پا کر بھاگ آئیں۔''
واضح رہے عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان جمعہ کے روز جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب جنگ جووں نے دامبوا نامی قصبے پر حملہ کیا، اس تصادم میں 50 کے قریب جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم فوج یا حکومت کے کسی ذمہ دار نے دو دن گذر جانے کے بعد بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم خاتون عائشہ یوسف کے مطابق طالبات کے اغواء کو 83 دن ہو چکے ہیں۔ عائشہ یوسف نے یہ بات ایوان صدر کی طرف اعلان کردہ مارچ کے دوران بتائی تاہم سکیورٹی حکام نے ان مارچ کرنے والوں کو ایوان صدر کی طرف جانے سے روک دیا۔
خاتون کارکن نے کہا ''ہمیں ان طالبات کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے سڑکوں پر آتے ہوئے 68 دن ہو گئے ہیں لیکن آج تک ہماری کسی نے بات نہیں سنی ہے۔ ''
نائیجیریا میں بوکو حرام کے نام سے متحرک عسکریت پسند گروپ ایک آزاد اسلامی ریاست کی تشکیل کا حامی ہے اور پچھلے پانچ سال سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسے دو سو سے زائد طالبات کو اغواء کرنے کے بعد عالمی سطح پر بھی جانا جانے لگا ہے۔
-
"بوکو حرام 200 طالبات رہا کر کے مجھے یرغمال بنا لیں"
نائیجرین مغنیہ ننھی لڑکیوں کے بدلے اپنی 'عصمت لٹانے' پر تیار
بين الاقوامى -
بوکو حرام نے یرغمال طالبات کی ویڈیو جاری کردی
نائیجیریا کی جیلوں میں قید جنگجوؤں کے بدلے میں طالبات کو رہا کرنے کی پیش کش
بين الاقوامى -
امریکا نے نائیجیرین تنظیم بوکو حرام کو دہشت گرد قرار دے دیا
کوئی امریکی شہری بوکوحرام اور انصارو کی مالی معاونت نہیں کرسکے گا
بين الاقوامى