’فیصلہ کن طوفان‘ حوثیوں اورعلی صالح کے اتحاد پرکاری ضرب
جنرل پیپلز کانگریس کا حوثی بغاوت سے اعلان لاتعلقی
سعودی عرب کی جانب سے پڑوسی ملک یمن میں ایران نواز اہل تشیع مسلک کے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ کو ابھی دو دن پورے نہیں ہوئے مگر اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ شیعہ حوثیوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے سہارے پر ملک میں بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پرقبضہ کیا تھا۔ ’جن پے تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘ کے مصداق عبداللہ صالح کی جماعت نے حوثیوں کی ملک میں جاری بغاوت سے اعلان لاتعلقی ظاہر کیا ہے۔ یہ اعلان دراصل حوثیوں اور علی صالح گروپ کے درمیان حکومت مخالف اتحاد کے پارہ پارہ ہونے کا واضح اعلان ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علی عبداللہ صالح کی جماعت کے سیاسی شعبے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی یمن سے جنوبی یمن کے تمام اضلاع تک حوثیوں کی توسیع پسندی میں جماعت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جنرل پیپلز کانگریس کی جانب سے حوثیوں کی مدد کرنے کا الزام صرف میڈیا پروپیگنڈا ہے جس میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف اقتدار کی رساکشی ہے۔ اس ساری صورت حال میں جنرل پیپلز کانگریس کا کردار صرف مفاہمتی کوششوں تک محدود ہے جو کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں کررہی ہے تاہم جماعت کو یہ شکوہ ضرور ہے کہ یمن کی بعض سیاسی قوتیں دانستہ طورپر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ جنرل پپیلز کانگریس ملک کے دفاع کے لیے کام کرتی رہے۔ اس پر یمن اور پڑوسی ملکوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے یا سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام قطعی بے بنیاد ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ جنرل پیپلزکانگریس کی جانب سے حوثی باغیوں سے اعلان لاتعلقی اس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ سعودی عرب کا فضائی فوجی آپریشن کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ اس آپریشن نے حوثیوں اور علی صالح کےدرمیان اتحاد پر کاری ضرب لگائی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں اقتدار صدر عبد ربہ منصور ھادی کو منتقل کیے جانے کےبعد جنرل پیپلز کانگریس نے اقتدار کے حصول کے لیے کوئی مداخلت نہیں کی اور نہ ریاستی اداروں کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ جماعت یمن میں قیام امن کے حوالے سے خلیجی ممالک کے امن فارمولے سے متفق ہے۔
یمن کی سیاسی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار کامل الشرعبی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی عبداللہ صالح اور یمن ہے حوثیوں کے درمیان دوستانہ مراسم کافی پرانے ہیں۔ سنہ 2006ء سے 2010ء کے دوران حوثیوں نے اس وقت کی یمنی حکومت کے مخالفین کے خلاف جتنی بھی جنگیں کیں ان میں انہیں علی صالح کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ اخوان المسلمون کی نمائندہ ’’حزب الاصلاح‘‘ کی سرکوبی کے لیے بھی علی صالح نے حوثیوں کو خوب استعمال کیا۔ سنہ 2011ء کے بعد سے اب تک صدر عبد ربہ منصور ھادی کے خلاف بھی حوثی شدت پسندوں کی ہرممکن مدد کے حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ علی صالح نے حکومت کے خلاف بغاوت کو ہوا دینے کے لیے فوج کے اعلیٰ عہدوں پر متعین اپنے حامیوں کو بھی خوب استعمال کیا۔ فوجی کیمپوں سے بھاری اسلحہ حاصل کرکے حوثیوں کو فراہم کیا گیا جس کی مدد سے انہوں نے عبد ربہ منصور ھادی کی حکومت کا تختہ الٹا۔
-
آپریشن ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ لبنان کی حمایت، حزب اللہ محتاط
سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ...
بين الاقوامى -
ریاض کو درپیش خطرات کا سخت جواب دیا جائے گا: پاکستان
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو درپیش سلامتی کے خطرات کا ...
پاكستان -
یمن اور سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کا تقابلی جائزہ
سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی شدت پسندوں کےخلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کے ...
بين الاقوامى -
یمن میں حوثی مخالف آپریشن کے سبب بندرگاہیں بند
یمن نے سعودی عرب کی سربراہی میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن 'فیصلہ کن طوفان' کے ...
بين الاقوامى -
سعودی وزیردفاع کی قیادت میں ''فیصلہ کن طوفان''
نائب ولی عہد اور وزیرداخلہ حوثی مخالف مہم کی نگرانی کررہے ہیں
ایڈیٹر کی پسند -
حوثیوں کے خلاف آپریشن کی تفصیلات 'العربیہ' کو موصول
یمن میں ایران نواز اہل تشیع مسلک کے حوثی باغیوں کےخلاف سعودی عرب کے ’فیصلہ ...
بين الاقوامى