.

ایرانی خطرات سے خلیج کا دفاع کریں گے: مشیر اوباما

خلیج کی سلامتی کے لیے سربراہ کانفرنس بلانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی مشیر بن روڈز نے 'العربیہ' اور 'الحدث' ٹیلی ویژن چینلوں کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک خلیجی ریاستوں کو ایران کی جانب سے درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے میں ان کی مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدرباراک اوباما اور امریکی انتظامیہ کی پالیسی یہی ہے کہ خلیج کو ایران کی جانب سے درپیش ہر طرح کے خطرے سے بچایا جائے۔ اس حوالے سے جلد ہی کیمپ ڈیوڈ میں ایک سربراہ کانفرنس منعقد ہوگی جس میں خلیجی ملکوں کی قیادت سے بھی صلاح مشورہ کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر روڈز کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی جانب سے دہشت گردوں سے روابط یا دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے پر خاموش نہیں رہے گا۔ اگر تہران کی طرف سے خلیجی ملکوں کو خطرہ ہوا تو امریکا اس خطرے کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا تمام خلیجی ممالک کے ساتھ موثر تزویراتی تعاون کے لیے کوشاں ہے تاکہ یمن اور شام میں ایران کی مبینہ مداخلت کی روک تھام کی جاسکے۔ تاہم اس حوالے سے باضابطہ بات چیت ڈیوڈ کیمپ چوٹی کانفرنس میں کی جائے گی۔

بن روڈز کا کہنا تھا کہ ایران پرعاید اقتصادی پابندیوں میں نرمی اس وقت کی جائے گی جب تہران جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے وعدے ایفاء کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا تمام خلیجی ممالک کوبھی ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے سمجھوتے پر اطمینان دلاتا ہے۔ عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک دیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہم ایران پر کڑی نظر رکھیں گے۔ اس حوالے سے امریکا خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ صدر اوباما نے کیمپ ڈیوڈ کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ خلیجی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ خلیج کو ایران سے درپیش خطرات کی روک تھام کی جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں بن روڈز نے کہا کہ دو سال قبل صدر باراک اوباما نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ہرقدم اٹھائے گا۔ ہماری آج بھی یہی پالیسی ہے۔ سعودی عرب کو ایران سمیت کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں ریاض کا اسی طرح دفاع کریں گے جس طرح کویت پر عراق کے حملے کے وقت کویت کا دفاع کیا گیا تھا۔

غیرمعمولی سربراہ کانفرنس

امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی مشیر نے بتایا کہ ان کی حکومت نے کیمپ ڈیوڈ میں سربراہ کانفرنس کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں کےاندر اس کی تاریخ کا بھی اعلان کردیا جائے گا۔ یہ ایک غیر معمولی کانفرنس ہوگی جس میں خلیجی ممالک کی قیادت کو خصوصی طورپر شریک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صدر اوباما واشنگٹن سے دور کیمپ ڈیوڈ کے پر فضاء مقام پر خلیجی ممالک کی قیادت کے ساتھ صلاح مشورہ کریں گے۔ اس حوالے سے جلد ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اومان، قطر اور کویت کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ یہ کانفرنس دو روز تک جاری رہے گی جس میں خلیجی ممالک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات اور ان کے تدارک پر تفصیلی بات کی جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ ایران کی طرف سے درپیش خطرات کے تدارک کے لیے لائحہ عمل بھی مرتب کیا جائے گا۔

امریکی صدر کے مشیر سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پر اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے تہران کے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور خطے پر اپنی سیاسی بالادستی کی سازشوں میں اضافے کا خدشہ لاحق نہیں ہوگا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کو جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتے اور خطے کے امن وامان کو خطرے میں ڈالتے محسوس کیا تو ہم عالمی برادری نےتہران پر اقتصادی پابندیاں عاید کیں۔ یہ اقتصادی پابندیاں صرف متنازعہ جوہری پروگرام کی وجہ سے عاید نہیں کی گئیں بلکہ ایران کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کے بھی خلاف ہیں۔ اگر ایرانی حکومت نے جوہری سرگرمیاں روکنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کیا تب ہی پابندیاں نرم کی جائیں گی ورنہ ایران پر اقتصادی پابندیاں برقرار ہیں گی۔

بن روڈز نے کہا کہ ایران پر دو طرح کی اقتصادی پابندیاں عاید ہیں۔ ایک وہ جو امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے عاید کی گئی ہیں جب کہ دوسری پابندیاں اقوام متحدہ کی طرف سے عاید کردہ ہیں۔ ایران عالمی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کی صورت میں دونوں نوعیت کی پابندیوں کے اٹھائے جانے سےمستفید ہوگا۔ تاہم اگرایران کی جانب سے متنازعہ جوہری سرگرمیاں پھر سے شروع کردی گئیں تو اقتصادی پابندیوں کا شکنجہ تیار رہے گا۔ سمجھوتے کے تحت ایران بیلسٹک اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے تیار کردہ اسلحہ حاصل نہیں کرسکتا۔ اگر وہ ایسا کرے گا اسے دوبارہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔