'جائے پیدائش اسرائیل کے بجائے بیت المقدس لکھی جائے'

امریکی عدالت نے بیت المقدس کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا کی ایک عدالت نے پچھلے تیرہ سال سےجاری ایک مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کرتے ہوئے بالآخر مقبوضہ بیت المقدس کا "متنازعہ اسٹیٹس" تسلیم کرلیا ہے جس کے بعد بیت المقدس میں پیدا ہونے والے امریکی ملک کی جگہ 'اسرائیل' کا نام استعمال نہیں کرسکیں گے تا وقتیکہ کہ بیت المقدس کا تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل نہ ہوجائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں سے چھ نے بیت المقدس میں پیدا ہونے والے امریکیوں کے رجسٹریشن کارڈ میں اسرائیل کا نام استعمال کرنے کے خلاف فیصلہ دیا تاہم تین ججوں نے اس کی مخالفت کی۔ بیت المقدس میں پیدا ہونے والا کوئی بھی امریکی اپنے پاسپورٹ پر پیدائشی ملک کی جگہ بیت المقدس لکھے گا اور اسرائیل کا نام استعمال نہیں کرے گا۔

عدالت نے تیرہ سال سے زیرسماعت ایک امریکی شہری کے بیت المقدس میں پیدا ہونے والے بچے مناحیم زیفوتاوسکی کی جائے پیدائش کا کیس نمٹاتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے اور کہا ہے کہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت متنازعہ ہے۔

فلسطین میں نسل پرستی کے خلاف سرگرم عرب، امریکی کمیٹی کے قانونی مشیر عبد ایوب نے امریکی عدالت کےفیصلے کو نہ صرف عرب شہریوں کی بلکہ وائیٹ ہائوس اور امریکی محکمہ خارجہ کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عدالت کی جانب سے بیت المقدس کی حیثیت کو متنازعہ تسلیم کرنے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی عدالت کے فیصلے کے قانونی سے زیادہ بیت المقدس کے حوالے سے سیاسی مضمرات سامنے آئیں گے۔ اگرچہ اسی طرح کا ایک فیصلہ اس سے قبل امریکی کانگریس بھی کرچکا ہے جس میں بیت المقدس کی جگہ اسرائیل لکھنے کی تجویز مسترد کردی گئی تھی۔ ارکان کانگریس کا کہنا تھا کہ بیت المقدس ایک متنازعہ علاقہ ہے جب تک فلسطین اور اسرائیل دونوں ملک کرمذاکرات کے ذریعے اس کی حیثیت طے نہیں کرتے اس وقت تک بیت المقدس کی جگہ اسرائیل نہیں لکھا جاسکتا ہے۔

انسداد نسل پرستی کمیٹی کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ قانونی نوعیت کا ہے تاہم اس پرنظرثانی کی درخواست دی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی عدالت میں ایک دوسری درخواست میں بیت المقدس کی جگہ "مملکت فلسطین" لکھنے کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

چونکہ امریکا فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے علاقوں غرب اردن، مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں پیدا ہوانے والے امریکی اپنی جائے پیدائش اسرائیل، اردن اور مصر وغیرہ لکھتے ہیں اور ان کے پاسپورٹس پر انہی تین ممالک میں سے کسی ایک کا نام ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں