کویت مسجد میں بم حملے کے الزام میں تین سعودی بھائی گرفتار
کویت میں گذشتہ ماہ اہلِ تشیع مسلک کی ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے کے الزام میں سعودی اور کویتی حکام نے تین بھائیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''یہ تینوں سعودی بھائی کویت میں امام الصادق مسجد میں دہشت گردی کے حملے میں ملوّث ہیں''۔
ان میں سے ایک بھائی کو کویت میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کو سعودی عرب کے حوالے کیا جائے گا۔دوسرے بھائی کی گرفتاری سعودی عرب کے مغربی شہر طائف میں عمل میں آئی ہے اور تیسرے کو کویت کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے سے ایک مکان سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔فائرنگ کے اس تبادلے میں دو سعودی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
سعودی سکیورٹی ترجمان کے مطابق ان کا چوتھا بھائی اس وقت شام میں ہے اور وہ داعش کا ایک رکن ہے۔تاہم ان چاروں بھائیوں کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے کویت کے علاقے الصوابر میں واقع مسجد امام الصادق میں نماز جمعہ کے وقت خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم دھماکے میں ستائیس افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد کویتی حکومت نے دہشت گردی کے داعش کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر کہیں بھی موجود داعش سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔
خودکش بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے کویتی حکام نے قریباً ایک سو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان میں سے دس مشتبہ افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے کیس پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کردیے گئے ہیں۔ان میں سعودی ،کویتی اور غیر ریاستی شہری شامل ہیں۔ان میں سے پانچ افراد پر سعودی بمبار کی براہ راست مدد کرنے کا الزام ہے۔سعودی حکومت اور داعش نے خودکش بمبار کی شناخت فہد سلیمان عبدالمحسن القباع کے نام سے کی تھی اور وہ سعودی شہری تھا۔