.

شہزادہ سعود الفیصل امریکا میں انتقال کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سابق وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کو دنیا میں طویل مدت کے لیے وزیر خارجہ رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ چالیس برس تک سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے۔ انہوں نے مسلسل چار سعودی بادشاہوں کے دور میں وزیرِ خارجہ کی ذمہ داریاں انجام دیں اور اپریل 2015ء تک اس منصب پر فائز رہے۔

مرحوم سعود الفیصل سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ فیصل مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ سعودی عرب کی اس اہم سیاسی شخصیت کا انتقال امریکی شہر لاس اینجلس میں ہوا ہے جہاں وہ علاج کے لیے ہسپتال میں داخل تھے۔

شہزادہ سعودالفیصل کے انتقال پر پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رحلت سے پاکستان ایک عظیم دوست سے محروم ہو گیا ہے۔

شہزادہ سعود کے دورِ وزارت کے دوران 1978ء، 1982ء اور 2006ء میں لبنان پر اسرائیل کے حملوں، فلسطین میں 1987ء اور 2000ء کی انتفادہ تحریکوں، 1980 ء میں ایران-عراق اور 1990ء میں کویت –عراق جنگ، امریکہ پر 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور پھر 2003ء میں عراق پر امریکہ کی چڑھائی سمیت عالمی تاریخ کے کئی اہم واقعات پیش آئے جن کے دوران انہوں نے سرگرم سفارتی کردار ادا کیا۔

شہزادہ سعود کو عربی اور انگریزی سمیت کئی زبانوں پر یکساں عبور حاصل تھا اور وہ اپنی بذلہ سنجی اور نرم مزاجی کے باعث سفارتی حلقوں میں خاصے مقبول تھے۔

شہزادہ سعود 1940ء میں سعودی عرب کے شہر طائف میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1960ء کی دہائی کے وسط میں امریکہ کی پرنسٹن یونی ورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد شہزادہ سعود نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز سعودی عرب کی وزارتِ پیٹرولیم کے مشیرِ معاشیات کی حیثیت سے کیا تھا جہاں وہ اپنے والد شاہ فیصل کے کرشماتی اور جارح مزاج وزیرِ پٹرولیم احمد ذکی یمانی کے زیرِ تربیت رہے۔

سنہ 1971ء میں انہیں سعودی عرب کی وزارتِ پٹرولیم کا نائب وزیر مقرر کیا گیا تھا جہاں وہ وزیرِ خارجہ نامزد ہونے تک خدمات انجام دیتے رہے۔

شہزادہ سعود فلسطینی ریاست کے قیام میں ناکامی کو اپنے طویل ترین کیریئر کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیتے تھے۔