ترکی، شام سرحد پر بم دھماکا، 30 افراد ہلاک
بم دھماکے میں کم سے کم 100 افراد زخمی ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
ترکی کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سورج میں ایک ثقافتی مرکز میں بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں تیس افراد ہلاک اور کم سے کم ایک سو زخمی ہو گئے ہیں۔
ترکی کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ سورج میں یہ بم دھماکا مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے کے قریب ہوا ہے۔ بیان میں ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے ستائیس شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو قصبے کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے بعض زخمیوں کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بیان میں تمام شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے اس حملے کے بعد اجتماعی شعور کا مظاہرہ کریں۔
سورج شام کے جنگ زدہ کرد اکثریتی قصبے کوبانی (عین العرب) کے بالمقابل ترکی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔ فوری طور پر بم دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوری بعد آگ لگ گئی ثقافتی مرکز میں آگ لگ گئی تھی۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق بم پھٹنے کے نتیجے میں دھماکا ہوا ہے جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر دولتِ اسلامی عراق وشام (داعش) کے کسی جنگجو کا خودکش حملہ ہو سکتا ہے۔
سورج میں شامی مہاجرین کے لیے ایک بہت بڑا کیمپ بھی قائم ہے ۔یہ کیمپ اس سال جنوری میں کوبانی میں داعش اور کرد ملیشیا کے درمیان خونریز لڑائی کے بعد قائم کیا گیا تھا اور اس میں قریباً پینتیس ہزار مہاجرین رہ رہے ہیں۔
کرد فورسز نے داعش کے جنگجوؤں کو جنوری میں چار ماہ کی خونریز لڑائی کے بعد کوبانی سے نکال باہر کیا تھا اور قصبے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس کے بعد جون میں داعش کے جنگجوؤں نے اس قصبے پر دوبارہ قبضے کے لیے ایک شب خون کارروائی کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے تھے اور اپنے جنگجوؤں کی جانیں گنوانے اور خواتین اور بچوں سمیت دسیوں افراد کی جانیں لینے کے بعد چلتے بنے تھے۔انھوں نے کوبانی اور اس کے نواح میں تین خودکش بم دھماکے کیے تھے جن میں بیسیوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
پاکستان نے ترکی میں دہشت گردی کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم ترکی کے صوبے سانلی عرفہ میں واقع قصبے سورج میں آج دہشت گردی کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعے میں کئی قیمتیں ضائع ہو گئی ہیں''۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم متاثرہ خاندانوں ،ترکی کی حکومت اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔