سعودی عرب میں خودکش بم دھماکے کی مذمت
خلیجی اورعرب ممالک ،مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر أبھا میں جمعرات کو ایک مسجد میں خودکش بم حملے کی شدید مذمت کی ہے۔دہشت گردی کے اس واقعے میں سعودی عرب کے بارہ سکیورٹی اہلکار اور تین شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔
سعودی حکام کے مطابق خودکش بم دھماکا داخلی سکیورٹی کے ذمے دار خصوصی اسلحہ اور حربی یونٹ (ایس ڈبلیو اے ٹی، سوات) کے ہیڈ کوارٹرز میں واقع مسجد میں ہوا تھا۔واقعےمیں جاں بحق ہونے والے اہلکار اسی سوات یونٹ کے ارکان تھے۔ان کی آج جمعہ کو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں تجہیز وتکفین کی گئی ہے۔
برطانیہ میں متعیّن سعودی سفیر محمد نواف نے سب سے پہلے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔انھوں نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر لکھا کہ ''سعودی عرب دہشت گردوں کے خاتمے تک اقدامات جاری رکھے گا اور قومی اتحاد کو بھی برقرار رکھا جائے گا''۔
خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) اور دوسری عرب قیادت نے دہشت گردی کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
بحرین کے شاہ حمد بن سلمان آل خلیفہ نے خودکش بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اسلام کے اصولوں ،انسانی اقدار اور مقدس قوانین کے خلاف ورزی ہے۔انھوں نے متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے سعودی عرب کو دہشت گردی کے حملے کے بعد اپنے شہریوں کے تحفظ ،سلامتی اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف اقدامات کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گرد گروپوں نے تمام انسانی اقدار اور اصولوں کو تیاگ دیا ہے۔اردن ،مصر ،کویت ،قطر ،تیونس اور مصر کی جامعہ الازہر نے بھی اس خودکش بم حملے کی مذمت کی ہے۔