.

تقسیم کے دنوں کی ایک سچی کہانی

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ ایک سکھ لڑکی کی کہانی ہے جس نے دونوں ملکوں کی دیگر صدہا خواتین کی طرح تقسیم کا مہلک زخم کھایا۔ زیادہ مصیبتیں عورتوں پر ہی آئیں ان پر ہونے والے ظلم و تعدی کی کوئی انتہا نہیں۔ راولپنڈی تقسیم سے قبل بھی مسلمانوں کا شہر تھا لیکن اس میں سکھ کمیونٹی بھی پھیلی ہوئی تھی۔ سکھ آبادی بڑی خوشحال تھی جس کے ارکان خاصے پرجوش اور فعال تھے۔ مطالبہ پاکستان سے پہلے عشروں تک دونوں برادریاں باہمی احترام و سلوک سے رہ رہی تھیں۔ مسلمانوں کے لیے الگ پاکستان کا مطالبہ دونوں برادریوں کے تعلقات میں تلخی کا موجب بنا اور پھر جیسے راتوں رات ان میں دشمنی کی ناقابل عبور دیوار کھڑی ہو گئی حالانکہ ان میں صدیوں پرانے تعلقات قائم تھے لیکن اب جیسے پرانے تعلقات کا کوئی وجود ہی نہ رہا تھا۔

اور چونکہ سکھوں کو دور سے پہچانا جا سکتا ہے اور وہ اژدہام میں بھی صاف نظر آتے ہیں لہٰذا ان کو ہدف بنا لیا گیا۔ ان کی عورتیں خصوصی طور پر عدم تحفظ کا شکار ہو گئیں بلکہ بہت سی سکھ عورتوں نے گاؤں کے کنوئیں میں کود کر جان دیدی تا کہ جسمانی نقصان کی نوبت ہی نہ آئے۔ ایک نوجوان سکھ لڑکی نے، جو ابھی تیرہ چودہ سال کی بھی نہ ہو گی کنوئیں میں کود کر خودکشی کرنے میں اپنی ماں اور بہن کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے بھاگنا شروع کیا۔ وہ بھاگتی رہی۔ حتیٰ کہ ایک نیک دل مسلمان گھرانے نے اسے بچا لیا۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے لیے اللہ نے پلی پلائی بیٹی بھیج دی ہے۔

انھوں نے اس کی ایک مسلمان لڑکی کی طرح پرورش کی اور مسلمان لڑکیوں کے ایک مدرسے میں داخل کر دیا جہاں اس نے قرآن (پاک) حفظ کرلیا اور یہی نہیں اس کا حفظ قرآن اس قدر مضبوط تھا کہ اسے اس کے مدرسے نے ہی دوسری بچیوں کو پڑھانے کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔ کسی کو شبہ نہیں ہوا کہ وہ ایک سکھ لڑکی ہے۔ اس کے بارے میں جو بات سب جانتے تھے کہ وہ مدرسہ کی بہترین ٹیچر ہے۔ اس نے عربی زبان بھی اچھی طرح سیکھ لی تھی تا کہ قرآن (پاک) کو اور اچھی طرح سمجھا جا سکے۔ کبھی کبھی وہ اپنے ایک چھوٹے سے صندوقچے کو نکالتی اور اس کو کھول کر اندر جھانکتی۔ اس میں گرونانک کی ایک تصویر رکھی تھی جو اسے اپنی اصلیت سے روشناس کراتی تھی۔

حتیٰ کہ جب اس کی ایک مسلمان ٹیچر کے ساتھ شادی ہو گئی تب بھی اس نے گرونانک کی تصویر دیکھنا بند نہ کیا۔ یہ ایک طرح کا ’’ناسٹلجیا‘‘ تھا۔ اپنی جڑوں تک جانے کے لیے یہی طریقہ تھا۔ اس کو اس بات پر فخر تھا کہ اس نے سکھ ازم کے ساتھ بھی تعلق استوار رکھا ہے یہ وہ مذہب تھا جس نے اس کو اولین شناخت دی تھی۔

کسی نے بھی اس کی اصلیت پر شک نہ کیا‘ اس کے خاوند نے بھی نہیں اور نہ ہی اس کے اکلوتے بیٹے بشیر نے کہ اس کی ماں سکھ ہے۔ سب اسے پیدائشی مسلمان ہی سمجھتے اور قرآن (پاک) کی حافظہ ہونے کی نسبت اس سے رہنمائی بھی لیتے۔ انتہائی تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اچھے تعلقات کی وجہ سے اس بیچاری لڑکی کے لیے بدترین دن شروع ہو گئے۔ سرحدیں کھول دی گئیں آنا جانا بلا دقت ہونے لگا۔ لوگ ایک طرف سے دوسری طرف اپنے دوست احباب‘ عزیز و اقارب سے ملاقات کے لیے آنے جانے لگے۔

ایک سکھ جوان جس نے امرتسر میں اپنی اہم حیثیت بنا لی تھی اس نے اپنی اس بہن کو ڈھونڈنے کا ارادہ کیا جس نے کنوئیں میں چھلانگ نہیں لگائی تھی۔ اس نے اس کی راولپنڈی میں تلاش کی۔ اسے کچھ وقت تو لگ گیا مگر بالآخر اس نے اسے ایک گھر میں ڈھونڈ لیا تاہم وہ اس سے زیادہ بات چیت نہ کر سکا۔ اس کو بر وقت بارڈر پر پہنچنا تھا۔ لیکن یہ بات وہاں ساری برادری میں پھیل گئی کہ وہ لڑکی سکھ تھی۔

اس کے شوہر کو پتہ تھا وہ غیر مسلم تھی مگر اس نے اسے ایک مولوی صاحب کے ذریعے مشرف بہ اسلام کرا لیا تھا البتہ اس کے بیٹے کو اس بات کا شدید صدمہ ہوا کہ اس کی ماں کا تعلق سکھ گھرانے سے تھا۔ اب وہ اپنے دوستوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا جنہوں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کا مذاق اڑانا شروع کر رکھا تھا۔ اسے لگا اس کی زندگی کی بدنامی ہو گئی ہے۔ اس نے ماں سے فاصلہ پیدا کر لیا جو اپنے بیٹے کے تڑپتے دل کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے بیٹے کو ساری صورت حال بتانے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ وہ یہ بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا کہ قیام پاکستان سے بہت پہلے وہ ایک سکھ لڑکی تھی اور نہ ہی وہ اس حقیقت سے فرار اختیار کر سکتی تھی کہ پیدائشی طور پر وہ سکھ تھی۔

ایک دن بیٹے نے ایک طرح سے انتقام کے طور پر اپنی ماں کا سب سے قیمتی اثاثہ یعنی وہ صندوقچہ چرا لیا اور اسے ایک قریبی نہر میں خالی کر دیا۔ اس نے گرونانک کی تصویر کو کچھ دیر پانی پر تیرتے دیکھا اور پھر وہ تیز لہروں میں گم ہو گئی۔ پھر بھی اس نے اپنی ماں کو معاف نہیں کیا اور اس کے قریب نہیں گیا۔

بیٹے کے طرز عمل نے ماں کا کلیجہ چھلنی کر دیا لیکن وہ اس حقیقت سے کسی طور بھی فرار حاصل نہیں کر سکتی تھی کہ اس کی اصلیت اور ہے۔ یہ اس کا بھائی تھا جو اس کو تلاش کرتا پھر رہا تھا لیکن اس نے تو کسی کو تلاش نہیں کیا۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے اس نے اپنے ماضی سے تمام تعلقات منقطع کر رکھے تھے اور اس نے دل کو سمجھا لیا کہ اس کا بھائی اپنے طور پر ہی آیا ہو گا نہ کہ اس کو کسی اور نے بھیجا ہو گا۔

بیٹے کو ماں کے وجود سے ہی نفرت ہو گئی تھی اور ماں کو بھی یہ محسوس ہونے لگا تھا۔ اس کا شوہر اس کے درد کو محسوس کر رہا تھا لیکن اس کا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تکلیف دور ہو جائے گی لیکن وہ اپنے بیٹے کی دلی جذبات کا اندازہ نہ لگا سکا اور نہ ہی اس نے کبھی اپنے بیٹے کو تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تضادات کی وضاحت کی کوشش کی کیونکہ وہ سوچتا تھا کہ شاید بیٹا خود بھی سمجھ جائے گا۔ اب وہ ماں اپنے بیٹے کے بارے میں کیا کرے جو اس سے اس وجہ سے نفرت کرنے لگا تھا کہ وہ پیدائشی طور پر سکھ تھی۔ اس نے بیٹے کو سمجھانے کی اپنی سی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ کان دھرنے پر تیار نہ تھا۔ ہر قدم پر وہ اس کی توہین و تضحیک کرتا حتی کہ ماں خود بھی عاجز آ گئی۔ اسے یاد آیا کہ اس کی اپنی ماں اور بہن نے کس طرح کنوئیں میں کود کر اپنے ماضی سے ناتا توڑا تھا۔ وہ کنوئیں میں غرقاب ہو گئی تھیں۔

اور ایک دن جب وہ گھر میں اکیلی تھی تو اس نے بھی اپنی مصیبتیں ویسے ہی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا جیسے اس کی ماں اور بہن نے کیا تھا۔ وہ گاؤں کے اسی کنوئیں پر پہنچ گئی۔ اس دفعہ وہ کنوئیں میں کودنے سے نہیں بھاگی۔ اور اس کا بیٹا گاؤں کا پہلا شخص تھا جس نے کنوئیں میں اس کی لاش تیرتے دیکھی۔ یہ یقیناً اس کی ماں ہی تھی۔ شاید اس سے اس کا غصہ کچھ کم ہو گیا ہو لیکن اس نے ماں کی موت پر آنسو نہیں بہائے۔ >>>>> (ترجمہ: مظہر منہاس)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.