ایران: داعش کی ویب سائٹس چلانے کے الزام میں 53 گرفتار
ایران میں انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے کے سربراہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہا پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کی حمایت میں ویب سائٹس چلانے کے الزام میں 53 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ایرانی سائبر پولیس کے سربراہ کمال ھدینفرد نے بتایا ہے کہ ان افراد میں سے اکثر ایران کے سرحدی علاقوں میں مقیم تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کسی سرحدی علاقے کا نام نہیں لیا۔
گذشتہ مہینے کے دوران ایرانی حکومت نے بتایا تھا کہ اس نے عراقی سرحد کے ساتھ ملحقہ صوبے کرمانشاہ میں ایک شدت پسند سنی مسلمان گروپ کے لئے جنگجو بھرتی کرنے والے ایک سیل کو حراست میں لیا ہے۔
اس علاقے میں مجموعی طور پر ایک بڑی سنی آبادی رہائش پذیر ہے جو کہ تہران کی شیعہ حکومت کی پالیسیوں سے ناخوش ہے۔ ایران نے شام اور عراق میں لڑنے والی شیعہ تنظیموں اور ملیشیائوں کی مدد کے لئے فوجی افسران بھی بھیجے ہیں جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
-
ترکی اور روس میں مصالحت کرانا ہمارا فرض ہے: ایران
ایران نے اپنے اتحادی روس اور ترکی کے درمیان مصالحت کے لیے ازخود ہی کردار ادا کرنا ...
بين الاقوامى -
''بشارالاسد کا مستقبل ایران کے لیے ''سرخ لکیر'' ہے''
صرف شامی عوام کو اپنے ملک کی قسمت کے فیصلہ کے حق حاصل ہے: مشیر خامنہ ای
بين الاقوامى -
ایران کے مزید کئی فوجی افسر بشارالاسد پر قربان
شام کے محاذ جنگ پر صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے ایرانی فوجیوں، افغان اور ...
مشرق وسطی