ترکی کے نزدیک شامی شہر "تل رفعت" پر کرد فورسز کا قبضہ
شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ نے بتایا ہے کہ کرد فورسز نے ترکی کی سرحد کے نزدیک شام کے شمالی صوبے حلب کے شہر تل رفعت کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
رصدگاہ نے واضح کیا کہ کرد اور عرب جنگجوؤں کے اتحاد پر مشتمل "سیریئن ڈیموکریٹک فورسز" پیر کے روز تل رفعت شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئیں جو اس پہلے شامی مزاحمت کار گروپوں کے کنٹرول میں تھا۔
اگرچہ ترکی کی جانب سے بمباری کے ذریعے رینگتے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش جاری ہے تاہم اس کے باوجود کرد فورسز نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس شہر کا پورا کنٹرول لے لیا۔ کرد جنگجو کئیروز سے تل رفعت کے گرد گھیرا تنگ کرتے جارہے تھے جو حلب صوبے میں اپوزیشن گروپوں کا ایک آخری گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
یہ عسکری جیت اپوزیشن گروپوں کے لیے ایک نیا دھچکا ہے جو پہلے ہی پے درپے شکستوں سے دوچار ہیں۔ روسی فضائی معاونت کے ساتھ شامی سرکاری فوج کے وسیع پیمانے پر جاری حملوں کے نتیجے میں اپوزیشن گروپوں کے زیرکنٹرول علاقے آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں۔
تاہم تل رفعت کے مشرق میں واقع شہر مارع اور ترکی کی سرحد کے نزدیک شہر اعزاز پر اب بھی اپوزیشن گروپوں کا کنٹرول ہے۔کرد فورسز کچھ روز قبل شدید لڑائی کے بعد منغ کے فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ادھر ترکی کو اندیشہ ہے کہ اگر کردوں نے اعزاز شہر پر قبضہ کرلیا تو پھر تقریبا پوری سرحدی پٹی کردوں کے کنٹرول میں آجائے گی۔
-
ترکی کردوں کا شامی قصبے پر کنٹرول نہیں ہونے دے گا
شامی قصبے اعزاز پر روسی طیاروں کے میزائل حملے میں 14 افراد ہلاک
بين الاقوامى -
سعودی عرب نے ترکی میں جنگی طیارے اور فوج بھجوا دی
جنرل عسیری نے داعش کے خلاف جنگ کی تیاریوں کی تفصیلات بیان کر دیں
بين الاقوامى -
"ترکی اور سعودی عرب، شام میں زمینی کارروائی کر سکتے ہیں"
#ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویچ اوگلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک اور #سعودی_عرب، # شام ...
بين الاقوامى