برسلز خود کش بمبار کی وصیت کوڑے سے برآمد

دوسرے خود کش بمبار کی شناخت نجیم الشعراوی کے نام سے کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیلجیئن فیڈرل پراسیکیوٹر کے مطابق برسلز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور میٹرو سٹیشن پر خودکش دھماکے کرنے والے دو بھائی خالد اور ابراھیم البکراوی ہیں۔ ان کی اس کارروائی میں 31 افراد ہلاک جبکہ 270 سے زائد زخمی ہوئے۔

فیڈرل پراسیکیوٹر فریڈرک وان لو نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ابراھیم البکراوی کی شناخت اس کے فنگر پرنٹس کی مدد سے کی گئی جبکہ 'العربیہ' نیوز چینل نے بیلجیئم پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برسلز ہوائی اڈے پر دھماکا کرنے والا دوسرا خودکش بمبار نجیم العشراوی تھا۔ ابراھیم کے بھائی خالد نے مالیبک میڑو سٹیشن پر دھماکا کیا، اس کی شناخت بھی فنگر پرنٹس کی مدد سے ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ برسلز حملوں کا تیسرا مشتبہ ملزم ابھی تک مفرور ہے۔ اس نے دھماکا خیز مواد سے بھرا بیگ ہوائی اڈے پر چھوڑا اور اس کے پھٹنے سے پہلے ہی فرار ہو گیا۔ پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ برسلز حملوں کے متعدد دیگر مشتبہ ملزم ابھی تک مفرور ہیں۔

فریڈرک نے بتایا کہ برسلز ہوائی اڈے پر نگرانی کے کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج سے ماخوذ سٹل تصاویر کو حکام نے بڑے پیمانے پر مشتہر کیا جس میں تین مشتبہ افراد نظر آ رہے ہیں۔

ان تینوں کے درمیان چلنے والا ایک خودکش بمبار ابراھیم البکراوی تھا، جس کی شناخت فنگر پرنٹس کی مدد سے ہوئی۔ بیلجیئم میں 3 اکتوبر 1986 کو پیدا ہونے والا ابراھیم البکراوی بیلجیئم کا شہری تھا۔

میٹرو سٹیشن پر کھڑی ٹرین کی دوسری بوگی میں دھماکا کرنے والا خودکش بمبار خالد البکراوی تھا اور وہ فنگر پرنٹس کے ذریعے ہونے والی شناخت میں ابراھیم کا بھائی ثابت ہوا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق وہ برسلز میں 12 جنوری 1989 کو پیدا ہوا۔

پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ دھماکوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے خلاف متعدد نوعیت کے مقدمات درج تھے تاہم ان کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہے۔

'العربیہ' نامہ نگار نے بیلجیئن حکام کے حوالے سے بتایا کہ برسلز حملوں کا ایک خودکش بمبار پیرس حملوں میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد تیار کرتا رہا۔ چار ماہ قبل ہونے والے ان دھماکوں میں پیرس کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

بیلجیم پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے برسلز میں دہشت گردی کے مجرموں کی شناخت کےساتھ ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کو کوڑے کے ایک ڈھیر سے ایک خود کش بمبار کی آخری وصیت بھی ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور اپنا کمپیوٹر اور کاغذ پر لکھی نصیحت چاربیک کالونی کی ایک شاہراہ پرنصب کوڑے کے ڈرم میں پھینک گیا تھا۔ اس کاغذ پر لکھا ہے کہ ’’میں نہیں جانتا کہ اب میں کیا کروں، کوئی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا کیونکہ مجھے ہر جگہ ڈھونڈا جا رہا ہے‘‘۔

تفتیش کاروں کو اس فلیٹ سے داعش کا ایک جھنڈا ،ایک آتشیں رائفل، ڈیٹونیٹرز اور پیرس حملوں کے مرکزی مشتبہ کردار صلاح عبدالسلام کے انگلیوں کے نشان ملے تھے۔اس کو تین روز بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے تین روز بعد برسلز میں بم دھماکے ہوئے ہیں۔ داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں