"سعودی عدلیہ کو بلاگنگ کے ذریعے مربوط بنایا جائے گا"

عدالتی شعبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں: وزیر انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

#سعودی_عرب کے وزیر انصاف ڈاکٹر #ولید_الصمعانی نے کہا ہے کہ وزارت انصاف ملک میں عدالتی نظام، سپریم کورٹ، اپیل کورٹس، ان کے اصول ومبادی اور عدالتوں کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلوں کو مربوط ومنظم بنانے کے لیے ایک بلاگ قائم کررہی ہے۔

#العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ حکومت جوڈیشل نظام کی بہتری میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گی اور عدالتی اصلاحات اور عدالتی نظام کو منظم ومربوط بنانے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں جلد دور کردی جائیں گی۔ اس سلسلے میں وزارت انصاف کے ہاں کئی پروگرامات زیرغور ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وزارت انصاف رئیل اسٹیٹ سسٹم کی رجسٹریشن کو بھی اس شعبے میں مختص کمپنیوں کے تعاون سے جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے تاکہ رئیل اسٹیٹ کے وسائل کو آن لائن سروسز کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر الصمعانی نے اپنے 23 منٹ کے طویل انٹرویو میں کہا کہ عدالتوں میں سالانہ 5 لاکھ سے زیادہ کیسز آتے ہیں اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان تمام مقدمات کو جلد ازجلد نمٹا دیا جائے۔

انہوں نے کہ عدلیہ کی آزادی پوری دنیا کے ممالک میں شہریوں کےبنیادی حقوق کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں بھی عدالتوں کو فیصلہ سازی میں مکمل آزادی حاصل ہے اور کوئی جج اپنی من پسند یا کسی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کے بجائے ریاستی قوانین کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ عدالتی آزادی کا اس سے بڑا اور یا ثبوت ہو سکتا ہے کہ کسی بھی عدالت کے فیصلے کو دوسرے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں