عراقی وزیر اعظم اپنی اوقات میں رہیں، وہ میرے ہم پلّہ نہیں: ترک صدر

موصل پر دوبارہ کنٹرول کے لیے آپریشن سے ترکی کو باہر نہیں رکھا جا سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے واضح کیا ہے کہ عراقی شہر موصل پر دوبارہ کنٹرول کے لیے آپریشن سے ان کے ملک کو باہر نہیں رکھا جاسکتا۔انھوں نے عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی اوقات میں رہیں۔

انھوں نے استنبول میں ایک تقریر میں کہا ہے کہ ''ترک فوجیوں کو موصل کے نزدیک واقع ایک فوجی اڈے سے واپس نہیں بلایا جائے گا اور نہ ترک فوج بغداد سے احکام لے گی۔ترک فوجی داعش مخالف جنگجوؤں کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ موصل کو انتہا پسند گروپ سے واپس لینے میں مدد مل سکے''۔

بلقان اور وسطی ایشیا کے خطے سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہ نماؤں کے اجتماع سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ '' عراق کی جانب سے اعتراضات کے پیش نظر ترکی کو موصل کی آزادی کے لیے کسی کارروائی سے نہیں روکا جا سکتا''۔

اس کے بعد انھوں نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ میرے ہم پلّہ نہیں ہیں،آپ میرے برابر نہیں ہیں،آپ میں وہ خصوصیت نہیں ہے جو مجھ میں ہے۔آپ کی عراق میں غوغا آرائی ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔آپ کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھیں گے''۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ ترکی موصل کے نزدیک واقع فوجی اڈے بعشیقہ سے اپنے فوجیوں کو واپس نہیں بلائے گا۔انھوں نے بتایا کہ یہ حیدرالعبادی ہی تھے جنھوں نے 2014ء میں انقرہ سے جنگجوؤں کو تربیت دینے کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ترک فوج ابھی اپنا ایسا معیار نہیں کھوئی ہے کہ اس کو آپ سے احکامات لینے کی ضرورت پیش آ جائے۔ہم جو ضروری ہوا ،وہ کریں گے ،جیسا کہ اب تک ہم کرتے چلے آرہے ہیں''۔

درایں اثناء ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ موصل کو آزاد کرانے کی کسی کارروائی سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی راہ ہموار نہیں ہونی چاہیے۔

ترکی اس بات پر مشوّش ہے کہ موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے بعد کرد اور شیعہ گروپ اس شہر کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں اور وہ وہاں سنی عربوں اور ترکمان نسل کے باشندوں کو نکال باہر کرسکتے ہیں۔

بن علی یلدرم نے کہا کہ ''ہم اپنے تمام دوستوں پر واضح کر چکے ہیں کہ موصل میں آپریشن داعش کے قلع قمع اور انھیں وہاں سے نکال باہر کرنے تک ہی محدود رہنا چاہیے''۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ''اگر آپ داعش کو وہاں سے نکال باہر کرنے کے بعد موصل کے آبادی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر آپ ایک بڑی خانہ جنگی سلگا دیں گے اور یہ فرقہ وارانہ جنگ ہوگی''

ترک حکام کے مطابق بعیشقہ کے اڈے پر ان کے سیکڑوں فوجی موصل سے تعلق رکھنے والے تین ہزار سے زیادہ ترکمن ،کرد اور سنی عرب جنگجوؤں کو تربیت دے رہے ہیں۔ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اڈے سے جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش کے کم سے کم سات سو جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس اڈے پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے پر عراق اور ترکی کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور بغداد حکومت حالیہ مہینوں میں ترکی سے متعدد مرتبہ ان فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کرچکی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی موجودگی عراق کی علاقائی سالمیت اور قومی خود مختاری کے منافی ہے جبکہ ترکی موصل میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں عراقی فوج کے ساتھ شیعہ ملیشیاؤں کی شرکت پر معترض ہے اور عراقی حکومت ان اعتراضات پر بھی ترکی سے نالاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں