پاسداران انقلاب العربیہ ڈاٹ نیٹ پر کیوں برس پڑا؟

اھوازی فوجی افسر کے قتل کی خبر شائع کرنے پر برہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیر عہدیدار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فارسی اور عربی ویب پورٹل پر شائع ہونے والی ایک خبر پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پاسدارن انقلاب کے معاون برائے سایسی امور جنرل رسول رسائی راد نے ایک بیان میں العربیہ ڈاٹ نیٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جنرل راد کو العربیہ ڈاٹ نیٹ کے عربی اور فارسی پورٹل پر ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی وہ خبر سخت گراں گذری ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فوج نے عرب ایرانی فوجی افسر کو شام میں جنگ میں شمولیت سے انکار پر حراست میں لینے کے بعد تشدد کرکے قتل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اھواز سے تعلق رکھنے والے ایک افسر کی فوج کی حراست میں ہلاکت کی خبر چند روز قبل شائع کی تھی۔

’میزان نیوز‘ نامی ایک ویب سائیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل راد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ پر مکروہ پروپیگنڈہ کرنے اور افواہیں پھیلانے کا الزام عاید کیا۔ ایرانی جنرل کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں شام میں رضاکارانہ طور پر لڑائی میں شمولیت کے لیے لاکھوں لوگ جانے کو تیار ہیں مگر ہم شام میں جنگجو نہیں بھیج رہے بلکہ صرف مشاورت کے لیے جنگی ماہرین شام میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ عرب صوبے سے تعلق رکھنے والے افسر کی شام کی جنگ میں شمولیت سے انکار پر اسے تشدد کرکے قتل کرنے کی خبر من گھڑت ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ایرانی امور کے ماہر اور سینیر تجزیہ نگار وجدان عبدالرحمان نے ایرانی جنرل کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرب ایرانی فوجی افسر کی دوران حراست ہلاکت کی خبر نشر کرنے پر پاسداران انقلاب کی اس قدر برہمی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران میں بشارالاسد کے جرائم کے حوالے سے بات کرنے پر کس قدر غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ نیز پاسداران انقلاب اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے کس طرف یک طرفہ تصویر پیش کرتا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے صوبہ اھواز سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکار کو شام کی جنگ میں جانے سے انکار پر گرفتار کرلیا تھا جسے تشدد کرکے قتل کردیا گیا ہے۔ بعد ازاں مقتول فوجی افسر کی میت اس کے لواحقین کے حوالے کردی گئی تھی۔ مقتول کو پولیس کی نگرانی میں صوبہ اھواز میں دفن کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں