.

شامی "علویوں" میں سے باسیج کا قیام شروع کیا :ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2011 میں شام میں انقلابی تحریک کے آغاز پر شہری لباس میں سامنے آنے والے مسلح عناصر نے سخت پرتشدد اسلوب اپنایا تھا۔ آج ایران ان کو شامی "باسیج" کا نام دیتا ہے۔ ایران نے اعتراف کیا ہے کہ ابتدا میں شامی حکومت کی مخالفت کے باوجود اسی نے یہ فورس تشکیل دی تھی اور یہ ملیشیا علاحدگی پسند باغیوں کو کچلنے میں کامیاب رہی۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام باسیج فورس کے کمانڈر محمد رضا نقدی کے مطابق باسیج کے ایک سابق کمانڈر حسین ہمدانی نے بشار الاسد کے خلاف انقلابی تحریک شروع ہونے کے پہلے ماہ کے دوران شامی باسیج فورس کے قیام کے حوالے سے نقدی کے ساتھ مشاورت کی تھی۔ واضح رہے کہ ہمدانی گزشتہ برس حلب میں ایک محاذ پر شامی اپوزیشن کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

ایرانی روزنامے "شرق" سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رضا نقدی نے بتایا کہ اس طرح شام میں "Mobilisation Resistance Force" باسیج کا قیام عمل میں آ گیا۔ یہ ایران میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام باسیج فورس سے ملتی جلتی ملیشیا ہے۔ ایرانی باسیج ملک میں مرشد اعلی علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی تحریک کو کچل ڈالنے کے حوالے سے معروف ہے۔

شامی حکومت کی شرط

نقدی نے ایرانی اخبار سے گفتگو کے دوران شامی باسیج کے قیام میں بشار حکومت کے کسی کردار کا ذکر نہیں کیا بلکہ نقدی کے مطابق شامی حکومت نے ابتدا میں کسی رائے کا اظہار نہیں کیا تھا تاہم بعد میں جب ان ملیشیاؤں نے شامی اپوزیشن کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں تو بشار حکومت نے اس کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو وسعت دینے پر آمادگی ظاہر کی۔

نقدی نے بتایا کہ شامی حکومت کے تصور میں بھی نہ تھا کہ شہریوں پر مشتمل ایک ایسی فورس بھی تشکیل دی جا سکتی ہے جو اسلحہ اٹھا کر جنگ میں شریک ہو جائیں۔

"شامی باسیج فورس" کی تشکیل کے حوالے سے نقدی نے بتایا کہ شامی حکومت نے ابتدا میں شرط رکھی تھی کہ یہ فورس فقط ایک (علوی) فرقے پر مشتمل ہونا چاہیے۔ تاہم دمشق کے نواحی علاقوں میں کامیابیوں کے حصول کے بعد بشار حکومت نے اس خیال کا خیرمقدم کیا اور شام میں دیگر فرقوں کے عناصر کی شمولیت کے ساتھ مزید بریگیڈوں کی تشکیل پر آمادہ ہو گئی۔