.

امریکی تنظیم کا ایران سے معاہدوں کے سنگین نتائج پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ’جوہری ایران مخالف اتحاد‘ نے ایرانی رجیم اور دوسرے ممالک کے درمیان تجارتی معاہدوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کےسنگین نتائج پر خبردار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’جوہری ایران مخالف اتحاد‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں حال ہی میں یورپی ملک آسٹریا اور ایران کے درمیان تیل اور گیس کے معاہدے کی مذمت کی گئی اس معاہدے کو باعث تشویش قرار دیا۔

’وائس آف امریکا‘ [VOA] نے مذکورہ امریکی ادارے کے چیئرمین ڈیوڈ ایبسن کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کا کہنا ہے کہ ویانا اور تہران کے درمیان گیس اور تیل کے شعبوں میں تعاون کا نیا معاہدہ ایران کے خطرناک جوہری پروگرام میں معاونت کے مترادف ہے۔ یہ معاہدہ ایران کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ یہ معاہدہ پاسداران انقلاب کے ساتھ ہے کیونکہ اس وقت ایران میں تیل کے معاملات کی نگرانی حکومت کے پاس نہیں بلکہ پاسداران انقلاب کے پاس ہے۔

خیال رہے کہ ’جوہری ایران مخالف اتحاد‘ نامی امریکی فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے، جس میں امریکا کی ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ تنظیم دنیا کو ایران کے جوہری خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

ایران مخالف امریکی گروپ کے سربراہ ایبسن کا کہنا ہے کہ آسٹریا کا ایرانی رجیم کے ساتھ معاہدہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ پوری دنیا ایران کو دہشت گردی کا عالمی پشت پناہ اور سہولت کار قرار دیتی ہے۔