سعودی عرب دہشت گردی مخالف جنگ میں اہم شراکت دار ہے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کا اہم شراکت دار ملک ہے اور اس کے ساتھ تعاون سے خطے میں سلامتی کی ضمانت مل سکتی ہے۔

یہ بات روسی پارلیمان کے ایوان بالا ’’وفاقی کونسل ‘‘ کی چیئرپرسن ویلنٹینا میٹفینکو نے سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر آمد کے موقع پر کہی۔ان کی قیادت میں روس کا اعلیٰ سطح کا پارلیمانی وفد ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت الریاض پہنچا تھا۔

روسی خبررساں ایجنسی اترتاس کے مطابق انھوں نے کہا کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ،علاقائی استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر زوردیں گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس کا شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل اور ان کے ملک میں جاری خانہ جنگ کے حوالے سے موقف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔اس تناظر میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے حکام کے درمیان بات چیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔روس شامی صدر کا سب سے بڑا پشتیبان ملک ہے جبکہ سعودی عرب ان کی اقتدار سے رخصتی چاہتا ہے اور وہ ان کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑنے والے باغیوں کی حمایت کررہا ہے۔

سعودی عرب اور روس ماضی میں شام کی صورت حال کے حوالے سے متعدد اجلاس منعقد کرچکے ہیں۔ان میں سب سے اہمیت کی حامل نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جولائی 2015ء میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات تھی۔اس کے علاوہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے بھی متعدد مواقع پر ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size